ایپل کا کہنا ہے کہ میک امریکہ میں ہی بنے گا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 دسمبر 2012 ,‭ 01:14 GMT 06:14 PST
ایپل

ایپل پر تنقید ہوتی رہی ہے کہ وہ امریکہ میں کم ملازمتیں فراہم کرتا ہے

ایپل کمپنی اب میک کمپیوٹر کو خصوصی طور پر امریکہ میں ہی بنائے گی۔

این بی سی ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایپل کے چیف ایگزیکیٹو ٹم کک نے کہا کہ کمپنی کوشش کر رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ کام امریکہ میں ہی کیا جائے۔

ایپل کی اکثر مصنوعات چین میں بنائی جاتی ہیں جہاں کام کرنے کے خراب حالات کی وجہ سے اسے تنقید کا سامنا ہے۔

یہ ٹم کک کا سٹیو جابز کے انتقال کے بعد نشر ہونے والا پہلا انٹرویو ہے۔ سٹیو جابز کا انتقال اکتوبر 2011 میں ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایپل کی آئی فون جیسی اہم مصنوعات پہلے ہی امریکہ میں بنائی جاتی ہیں لیکن اس کے بعد اسمبلی کے لیے دوسرے ممالک بھیج دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی فون کا انجن امریکہ میں بنتا ہے لیکن اس کے بعد برآمد کر دیا جاتا ہے۔ اس کا شیشہ بھی کنٹکی میں بنتا ہے۔ ’ہم کئی سالوں سے زیادہ سے زیادہ کام امریکہ میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس طرح ایپل پرچون کی دوکانوں، ریسرچ اور ڈویلپمنٹ اور ایپ بنانے والی تیسری پارٹیوں کے حوالے سے بالواسطہ طور پر چھ لاکھ ملازمتوں کا ذمہ دار ہے۔

ایپل پر اس بات کے حوالے سے بہت تنقید ہوتی رہی ہے کہ وہ دنیا کے دوسرے ممالک میں جہاں اجرت کم دی جاتی ہے زیادہ ملازمتوں کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔