خودکار سمندری روبوٹ تیر کر آسٹریلیا پہنچ گیا

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 6 دسمبر 2012 ,‭ 14:13 GMT 19:13 PST

اس روبوٹ نے نو ہزار ناٹیکل میلوں کا سفر ایک سال کے عرصے میں طے کیا

ایک خودکار روبوٹ نے امریکی شہر سان فرانسسکو سے آسٹریلیا تک کا سفر کامیابی سے تیر کر طے کر لیا ہے۔

اس روبوٹ نے نو ہزار ناٹیکل میلوں کا سفر ایک سال کے عرصے میں طے کیا۔

’لیکوئڈ روبوٹکس‘ نامی امریکی کمپنی نے اس ڈرون روبوٹ کے ذریعے بحر الکاہل کے درجۂ حرارت، پانی میں نمک کے تناسب اور دیگر معلومات جمع کیں۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ اس کامیابی نے ثابت کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مشکل سمندری حالات برداشت کر سکتی ہے۔

مائیکرونیژیا سے تعلق رکھنے والے جہاز رانی کے معروف ماہر پائیس ماؤ پیائیلگ کے اعزاز میں اس روبوٹ کا نام پاپاماؤ رکھا گیا ہے۔ پائیس ماؤ پیائیلگ کی وجہِ شہرت یہ تھی کہ وہ سمندروں میں اپنا راستہ بغیر روایتی آلات کے استعمال کے ڈھونڈتے تھے۔

کمپنی نے ایک بیان میں بتایا کہ اپنے اس سفر میں پاپاماؤ نےسمندری طوفان، شدید سمندری لہروں اور شارک مچھلیوں کا مقابلہ کیا۔ اس کے علاوہ اس نے ’گریٹ بیریئر ریف‘ کے گرد اپنا راستہ بھی تلاش کیا۔

اس منصوبے میں جمع کی گئی معلومات میں سے کم ہی پہلے سیٹلائیٹ کے ذریعے جمع کی جا سکتی تھیں جیسا کہ پودا نما ایک جانور فائیٹوپلینکٹن کی تعداد جو کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آکسیجن میں بدل کر دیگر سمندری حیوانات کے لیے خوراک فراہم کرتا ہے۔ تاہم کمپنی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تجربے کے بعد بہت مفصل معلومات جمع کی گئی ہیں جو کہ ماحولیات کے ماہرین کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔

یہ روبوٹ ایندھن کا استعمال نہیں کرتے بلکہ سمندری لہروں کی تونائی کے مدد سے آگے بڑھتے ہیں

لیکوئڈ روبوٹکس کے مزید تین روبوٹس ابھی سمندر میں ہیں جن میں سے دوسرا روبوٹ آئندہ سال آسٹریلیا پہنچے گا۔ روبوٹس کے ایک اور جوڑے کو جاپان کی جانب روانہ کیا گیا تھا مگر ایک کو نقصان پہنچنے کے بعد اس کا رخ مرمت کے لیے امریکی ریاست ہوائی کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔

ہر روبوٹ میں دو حصے ہیں۔ اوپر والا حصہ ایک چھوٹے ’سرف بورڈ‘ کی مانند ہے اور وہ نیچلے حصے سے ایک تار کی مدد سے منسلک ہے۔ نیچلے حصہ میں تیرنے میں مدد کے لیے روبوٹ کے کئی بازو ہیں۔

یہ روبوٹ ایندھن کا استعمال نہیں کرتے بلکہ سمندری لہروں کی تونائی کے مدد سے آگے بڑھتے ہیں۔ اوپر والے حصے پر لگی شمسی لوح یا سولر پینل کی تونائی سے مختلف سینسرز چلتے ہیں جو کہ ہر دس منٹ کے بعد معلومات جمع کرتے ہیں۔

برقی آلات اور سمندر کا جوڑ خطرناک لگتا ہے مگر یونیورسٹی آف برمنگھم کے شعبۂ کمپیوٹر سائنس کے ڈاکٹر جیرمی وائٹ کہتے ہیں کہ سمندری روبوٹس میں دلچسپی بے وجہ نہیں۔

’سمندر ایک انتہائی وسیع جگہ ہے چنانچہ خودکار روبوٹس کو آزمانے کے لیے ایک محفوظ جگہ ہے۔یہ روبوٹ آہستہ آہستہ چلتے ہیں اور ان کا دوسری چیزوں سے ٹکرانے کا خطرہ بہت کم ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔