ایپل اور سام سنگ کو جج کا مشورہ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 دسمبر 2012 ,‭ 14:49 GMT 19:49 PST
ایپل اور سام سنگ کے سمارٹ فون

امریکہ کی وفاقی عدالت کی جج نے ایپل اور سام سنگ پر زور دیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں جاری انٹیلیکچؤل پراپرٹی یعنی پیٹنٹ سے متعلق جاری جنگ کو ختم کریں۔

وفاقی عدالت رواں سال اگست میں سام سنگ کو ایک ارب ڈالر کے جرمانے کے فیصلے پر نظر ثانی کر رہی ہے۔

جج لوسی کوہ نے سماعت کے اختتام پر کہا کہ ’میرے خیال میں عالمی امن کا وقت آگیا ہے۔‘

جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ کو اگست میں ایک امریکی عدالت نے حکم دیا تھا کہ وہ امریکی کمپنی ایپل کو ایک اعشاریہ صفر پانچ ارب ڈالرز جرمانے کے طور پر ادا کرے۔

جیوری نے فیصلہ سنایا تھا کہ سام سنگ نے ایپل کے پیٹنٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔

سام سنگ نے فیصلے کو خارج کرنے اور مقدمے کی از سر نو سماعت یا جرمانے میں کمی کے لیے اپیل کی ہے۔

دوسری جانب ایپل نے اس جرمانے میں اضافے اور ساتھ ہی سام سنگ کے ان آٹھ سمارٹ فونز پر مستقل پابندی کا مطالبہ کیا ہے جن میں جیوری کے مطابق ایپل کی ٹیکنالوجی کا غیر قانونی استعمال کیا گیا ہے۔

سام سنگ نے جیوری کی جانب سے جرمانے کی رقم کے فیصلے کے قانونی جواز پر سوال اٹھایا ہے۔

جبکہ ایپل نے جج لوسی کوہ سے اپیل کی ہے کہ وہ جیوری کے اس فیصلے پر علیحدہ سے ہر پروڈکٹ کے تجزیے کی بنیاد پر نظرثانی نہ کریں۔

اس کے جواب میں جج کوہ کا کہنا تھا کہ ’اس فیصلے کی وجہ بننے والے مختلف عوامل پر غور کیے بغیر آپ اس مجموعی فیصلے پر کیسے غور کر سکتے ہیں۔‘

’اگر اس جرمانے کے فیصلے کو برقرار رکھنے کی بنیادی وجوہات ہوئیں تو اسے برقرار رکھا جائے گا۔ لیکن میرے خیال سے ہر پروڈکٹ کا علیحدہ سے تجزیہ کرنا مناسب ہے۔‘

واضح رہے کہ ایپل اور سام سنگ دنیا میں سمارٹ فونز اور ٹیبلٹ کمپیوٹر بنانے والی بڑی کمپنیوں میں شامل ہیں اور دنیا کے کئی ممالک میں ایک دوسرے پر قانونی دعوے کرتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔