ذیابیطس کے مریضوں کو دل کا خطرہ زیادہ

آخری وقت اشاعت:  پير 10 دسمبر 2012 ,‭ 11:43 GMT 16:43 PST
دل کا ایکس رے

ذیابیطس کے مریضوں کے دل کے پٹھوں کو نقصان پہنچتا ہے

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ عام افراد کی نسبت پینسٹھ فی صد زیادہ ہوتا ہے۔

برطانیہ میں نیشنل ڈائیبیٹیز آڈٹ نے ذیابیطس کے تقریباً بیس لاکھ افراد کا جائزہ لیا، جس سے معلوم ہوا کہ ان افراد کو دیگر امراض کے علاوہ وقت سے پہلے موت کا خطرہ بھی لاحق ہوتا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ یہ افراد ’اپنے وقت سے پہلے ہی مر رہے ہیں‘۔

برطانیہ کے وزیر صحت جیریمی ہنٹ کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مرض سے نمٹنے کے لیے پیش رفت ہوئی ہے لیکن اس کے علاج کے لیے ہونے والی کوششوں میں کامیابی کا تناسب ملا جلا ہے۔

ادارے کی جانب سے گذشتہ آٹھ برس میں کی گئی اس تحقیق میں جن افراد کی صحت کا جائزہ لیا گیا، ان میں پچاسی فی صد افراد کا تعلق انگلینڈ، جبکہ چون فی صد کا تعلق ویلز سے تھا۔

محققین نے ریسرچ کے دوران ان افراد کا موازنہ ان کے ہم عمر عام لوگوں سے کیا اور ذیابیطس سے متاثرہ افراد کی طبی پیچیدگیوں کا اندازہ لگایا۔

تحقیق میں پایا گیا ہے کہ انگلینڈ اور ویلز میں دوہزار دس اور گیارہ میں ذیابیطس والے پیتالیس ہزار مریض ایسے تھے جن کو دل کا دورہ پڑا تھا۔ محققین کا اندازہ تھا کہ یہ تعداد صرف ستائیس ہزار تین سو ہونی چاہیے۔

ان مریضوں کو دل کا دوہ پڑنے کی سب سے عام وجہ یہ تھی کہ ان کے دل کے پٹھوں کو نقصان پہنچا تھا۔

محققین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کے زخم آسانی سے نہیں بھرتے، اس لیے زخم صحیح نہ ہونے پر ان کی ٹانگ کے کٹنے کا خطرہ بھی زيادہ ہوتا ہے۔

نیشنل ڈائیبیٹیز آڈٹ میں اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے ڈاکٹر باب ینگ کا کہنا ہے، ’نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ کلینکل ایکسیلینس کی جانب سے ذیابیطس کے علاج کے لیے جو اہداف طے کیے گئے ہیں اگر سب طبی ادارے ان کو پورا کرلیں تو یہ ساری طبی پیچیدگیاں نہیں ہوں گی‘۔

ان کا مزید کہنا تھا، ’اس سے صورتحال میں بہتری کی کافی توقع ہے۔‘

واضح رہے کہ تحقیق میں یہ بھی پایا گیا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کوعام افراد کے مقابلے پر وقت سے پہلے موت کا خدشہ چالیس فی صد زیادہ ہوتا ہے۔

برطانیہ میں دل کے مرض کے علاج کے ادارے برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر پیٹر ویس برگ کا کہنا ہے، ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کی نشاندہی کرائی جائے، ان کا صحیح علاج ہو اور ان کو یہ صلاح دی جائے کہ وہ اپنے دل کا خاص خیال رکھیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس مرض کو ہونے ہی نہ دیا جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔