شہد کی مکھیوں کے جینیاتی راز دریافت

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 دسمبر 2012 ,‭ 14:14 GMT 19:14 PST

ایک ہی قسم کے ڈی این اے سے ملکہ اور کارکن مکھیاں پیدا ہوتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ شہد کی مکھیوں کی ماحول سے حساسیت سے وابستہ جینیاتی رازوں سے پردہ ہٹا لیا ہے۔

برطانیہ اور آسٹریلیا کے سائنسدانوں کے مطابق ان کی دریافت سے جینز کی ڈی کوڈنگ کی وجہ سے غذا، ماحول اور حشرات کے نشوونما کے درمیان تعلق کا اندازہ لگانے میں مدد ملے سکے گی۔

سائنسدانوں کے مطابق شہد کی مکھیوں کی اس بیماری کے بارے میں بھی معلومات ملیں گی جس کی وجہ سے دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر مکھیاں مر رہی ہیں۔

سائنسدانوں کی یہ دریافت انسیکٹ مائیکروبیالوجی اینڈ مالیکیولر بیالوجی نامی رسالے میں شائع ہوئی ہے۔

اس تحقیق میں شامل کوئین میری یونیورسٹی آف لندن کے پال ہیرڈ کا کہنا ہے کہ ’شہد کی مکھیاں ایک پیچیدہ گروہ کی شکل میں زندہ رہتی ہیں جس میں ہزاروں کی تعداد میں انفرادی مکھیاں موجود ہوتی ہیں۔‘

’ان میں سے زیادہ تر مادہ مکھیاں کارکن کے طور پر کام کرتی ہیں اور ان میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، یہ اپنی مختصر سی زندگی کو پھولوں سے خوراک حاصل کرنے میں صرف کر دیتی ہیں۔‘

لیکن شہد کی مکھیوں کے چھتے میں ایک ملکہ بھی ہوتی ہے جو لمبے عرصے تک جیتی ہے، اور چھتے میں اولاد پیدا کرنے کے عمل کی سربراہ ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’جب ملکہ انڈے دیتی ہے تو کارکن مکھیاں اندازہ لگا سکتی ہیں کہ لاروا سے بالغ کارکن مکھیاں پیدا ہوں گی یا بالغ ملکہ۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ لاروا کو دی جانے والی خوراک اس کی قسمت کا تعین کرتی ہے۔ اس میں جن کو پولن اور رس کی شکل میں خوراک ملتی ہے وہ کارکن بن جاتے ہیں اور جنہیں رائیل جیلی کہلانے والی ایک خاص خوراک دی جاتی ہے ان کی قسمت مختلف ہوتی ہے اور وہ ملکہ بن جاتے ہیں۔

مختلف طریقے سے خوراک دینے کے عمل کو ملکہ اور کارکن مکھیوں کی تمام زندگی میں قائم رکھا جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ تبدیلیاں ڈی این اے کی وجہ سے نہیں بلکہ نیوکلیئس کے اندر پائی جانے والی ایک پروٹین کی باعث ہوتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کو ’ماورائے جینیات‘ یا ایپی جینیٹک تبدیلیاں کہا جاتا ہے۔

تحقیق میں شامل ایک اور محقق مارک ڈیکمین کا کہنا ہے کہ لاروا میں ایک ہی ڈی این سے مختلف اقسام کی مکھیوں کا پیدا ہونا ماورائے جینیاتی عمل کی واضح مثال ہے۔ یہ ایسا مکینزم ہے جو ڈی این اے سے ماورا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔