تھری جی لائسنس کی نیلامی میں تاخیر کیوں؟

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 14 دسمبر 2012 ,‭ 17:48 GMT 22:48 PST

پاکستان میں تھری جی ٹیکنالوجی متعارف کروانے کی باتیں 2009 سے شروع ہوئی تھیں

حکومتِ پاکستان کو موبائل فون کی جدید ٹیکنالوجی تھری جی سپیکٹرم کے لائسنسز کی نیلامی سے اندازاً تقریباً ایک ارب ڈالر حاصل ہوں گے لیکن اس منافع بخش سودے میں مسلسل تاخیر ہوتی جا رہی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت بارہ کروڑ موبائل فون سِمز ہیں جبکہ براڈ بینڈ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تقریباً دو کروڑ ہے۔

اس وقت پاکستان میں موبائل فون پر ڈیٹا کی ترسیل ٹو جی ٹیکنالوجی کے تحت ہوتی ہے جبکہ دنیا میں جہاں چند ممالک فور جی موبائل فون ٹیکنالوجی متعارف کروا چکے ہیں وہیں درجنوں میں موبائل نظام میں تھری جی ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے۔

تھری جی ہے کیا؟ آسان الفاظ میں یہ موبائل فونز اور دیگر آلات میں ڈیٹا کی تیز تر ترسیل کی ٹیکنالوجی ہے اور اس کے آنے سے موبائل فون یا دیگر ڈیوائسز پر انٹرنیٹ کی رفتار گھروں اور دفاتر میں دستیاب براڈ بینڈ انٹرنیٹ جیسی ہوجائے گی۔

پاکستان میں کئی سال سے تھری جی سپیکٹرم کے لائسنسوں کی نیلامی کی بات گردش میں ہے۔ ٹیلی کام کے شعبے اور حکومتی دائروں میں تھری جی کو متعارف کروانے کی باتیں 2009 سے شروع ہوگئی تھیں تاہم حکومت 2011 میں اس بارے میں زیادہ سنجیدہ نظر آئی۔

بارہ کروڑ سمز

پاکستان میں اس وقت بارہ کروڑ موبائل فون سِمز ہیں جبکہ براڈ بینڈ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تقریباً دو کروڑ ہے۔

ماہرین کے مطابق چونک یہ نیلامی زرِمبادلہ کمانے کا ایک آسان ذریعہ ہوگی اسی لیے 2011 اور 2012 کے بجٹ خسارے کو پر کرنے کے لیے اس نیلامی کا بھی ذکر کیا گیا۔ ایک نجی موبائل فون کمپنی کے اہلکار کے مطابق ’موبائل فون کا شعبہ حکومت کے لیے سونے کا انڈا دینے والی مرغی کی مانند ہے‘۔

تاہم یہ ٹیکنالوجی متعارف کروانے کی کوششوں کو رکاوٹوں کا سامنا بھی رہا ہے۔ رواں سال مارچ میں جب نیلامی کی تاریخ مقرر کر لی گئی تھی تو اس کی شفافیت پر سینیٹ میں سوال اٹھائے گئے اور کہا گیا کہ قواعد و ضوابط کے مطابق نیلامی میں مدد کے لیے مشیروں کی خدمات حاصل نہیں کی گئی تھیں۔

حال ہی میں مواصلاتی شعبے کے نگراں ادارے پی ٹی اے میں بھی تھری جی سپیکٹرم کے لائسنس کی نیلامی پر تنازع منظرِ عام پر آیا۔

اخباری اطلاعات کے مطابق، نیلامی کے عمل میں مدد کے لیے جن مشیران کی خدمات حاصل کی گئی تھیں ان پر پی ٹی اے کے ممبر ٹیکنکل اور فنانس نے اعتراض کیا۔ اطلاعات کے مطابق، ان کا کہنا تھا کہ طریقہ کار شفاف نہیں تھا۔

تاہم، مواصلاتی شعبے پر لکھنے والے بلاگر عامر عطا کا کہنا ہے کہ معاملہ شفایت سے زیادہ ذاتی تناؤ کا لگتا ہے۔ دوسری جانب ایک نجی موبائل فون کمپنی کے اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ مشیروں کی خدمات چھپ چھپا کر حاصل کی گئیں۔ اس سلسلے میں پی ٹی اے کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی لیکن رابطہ نہ ہو سکا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نیلامی میں تاخیر کی بنیادی وجہ موبائل فون کمپنیوں کی مخالفت ہے کیونکہ انہیں تھری جی لائسنس خریدنے اور تکنیکی انفراسٹرکچر قائم کرنے لیے مزید سرمایہ درکار ہے۔ موبائل کمپنی کے ایک اہلکار کے مطابق ’اب بھی بعض کمپنیاں منافع نہیں کما پا رہیں تو مزید سرمایہ کیسے لگائیں گی؟‘

"گذشتہ کئی سالوں میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دگنی ہوگئی ہے اور اب پانچ پانچ ہزار روپے کے سستے چینی سمارٹ فون بھی دستیاب ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس سے ہم صارفین کو مزید سہولیات پیش کر سکیں گے۔"

مبوبائل فون کمپنی کے اہلکار

تاہم دوسری جانب، ایک اور موبائل کمنی کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ موبائل کمپنیاں تیار نہیں ہیں کیونکہ تھری جی سے انہیں مزید آمدنی کا موقع میسر ہو گا۔ ’گذشتہ کئی سالوں میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دگنی ہوگئی ہے اور اب پانچ پانچ ہزار روپے کے سستے چینی سمارٹ فون بھی دستیاب ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس سے ہم صارفین کو مزید سہولیات پیش کر سکیں گے‘۔

بلاگر عامر عطا کہتے ہیں کہ اس وقت موبائل کمپنیاں کی تقریباً پچاسی فیصد آمدنی فون کالز کی سہولیات کے ذریعے آتی ہے اور تھری جی آنے سے’ان کی آمدنی میں اضافہ ہو گا۔ برطانوی ٹیلی کام کو دیکھیں تو ان کی آمدنی کا زیادہ حصہ براڈ بینڈ کے ذریعے آتا ہے‘۔

تھری جی سے صارفین کو بھی فائدہ، حکومت کو بھی فائدہ اور کچھ حد تک موبائل فون کمپنیز کو بھی، تاہم اسے متعارف کروانے کے لیے دسمبر کی دی گئی ڈیڈ لائن گزرتی نظر آ رہی ہے۔ ایک یہ وجہ ہے کہ ابھی تک وہ دستاویز عام کرنا باقی ہے جس سے یہ واضح ہو گا کہ کتنے لائسنس دیے جائیں گے، ان کی کیا قیمت ہو گی اور تھری جی سپیکرٹرم کی کتنی بینڈ وڈتھ ہوگی۔

یاد رہے کہ بھارت میں بھی ٹو جی لائسنسوں کی نیلامی پر بدعنوانی کے الزامات منظرِ عام پر آئے تھے۔ شاید اسی لیے پی ٹی اے نے نیلامی کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے پاکستان میں بدعنوانی پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے ہیں جبکہ وزیرِاعظم راجہ پرویز اشرف نے اس عمل کی نگرانی کے لیے ایک غیر جانبدار کمیٹی کا بھی اعلان کیا ہے۔

اس حکومت کی مدت پوری ہونے سے قبل کیا موبائل صارفین کے لیے تھری جی ٹیکنالوجی متعارف کرانا ممکن ہے؟ پاکستان میں جیسے اگلے انتخابات کی تاریخ پر افواہیں گردش کرتی رہی ہیں، اسی طرح یہ کہنا مشکل ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں تھری جی ٹیکنالوجی متعارف ہو سکےگی یا نہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔