پانی کے ذخائر سے سیلاب میں شدت کا امکان

آخری وقت اشاعت:  اتوار 16 دسمبر 2012 ,‭ 13:31 GMT 18:31 PST
پانی کے ذخائر

سائنسدانوں کا کہنا ہے انسانوں کے تعمیرکردہ پانی کے بڑے ذخائر سے بارش کی شدت میں تیزی آ سکتی ہے اور اس سے سیلاب پر قابو پانے کے لیے بنائے گئے بند ٹوٹ سکتے ہیں۔

سائنسدانوں نے اپنی تحقیق کے دوران یہ دریافت کیا ہے کہ جنوبی امریکہ کے ملک چلی کے جن علاقوں میں انسانوں کے تعمیرکردہ پانی کے بڑے ذخائر ہیں، وہاں بارش کا تناسب اسی قسم کے ان علاقوں سے بہت زیادہ ہے جہاں پانی کے ویسے ذخائر نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس ’لیک ایفکٹ‘ یعنی جھیل کے اثرات کے سبب آنے والے سیلاب سے بچاؤ کے انتظامات متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ عموما ڈیم تعمیر کرتے ہوئے ’جھیل کے اثرات‘ کا خیال نہیں رکھا جاتا۔

اس تحقیق کو ’ہائیڈرولوجی‘ نامی جریدے میں شائع کرنے کے لیے قبول کر لیا گیا ہے۔

اس ضمن میں کی جانے والی سابقہ تحقیق میں مقامی آب و ہوا پر پانی کے ذخائر پر بنے ڈیم پر اثرات کے حوالے سے توجہ دی جاتی رہی ہے۔

اس بات کے شواہد بھی موجود ہیں کہ پانی کے ذخائر اور جھیل کی وجہ سے اس علاقے میں بارش زیادہ ہوتی ہے کیونکہ وہاں سے بھاپ زیادہ نکلتی ہے جو کہ بارش کا باعث بنتی ہے۔

بہر حال چند ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اس سے پانی اور زمین کے درمیان ہوا کی سمت و رفتار بھی متاثر ہوتی ہے جس کی وجہ سے زیادہ بارش اور گرج چمک والے طوفان کا امکان رہتا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اس کے اثرات کافی اہم ہو سکتے ہیں۔ ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ڈیم بننے کے ایک سال بعد اس علاقے کی فضا میں پائے جانے والے بخارات میں چار فی صد اضافہ ہوا۔

چلی کی ٹیلکا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ملک کے مختلف حصوں میں موجود پچاس پانی کے ذخائر کے آس پاس کے اعدادوشمار کا مطالعہ کیا ہے۔

ڈیم

جتنا بڑا پانی کا ذخیرہ ہوگا اتنے زیادہ اثرات ہوں گے

چلی کی آب و ہوا کافی متنوع ہے جہاں صفر میلی میٹر سالانہ بارش سے لے کر چار ہزار پانچ سو میلی میٹر سالانہ تک بارش والے علاقے پائے جاتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خشک آب و ہوا والے علاقوں میں جہاں پانی کے ذخائر یا ڈیم تعمیر کیے گئے ہیں، وہاں شدید بارش ہو رہی ہے۔

اس تحقیقی مقالے کے ایک مصنف اور ایری زونا یونیورسٹی کے ڈاکٹر پابلو گریشیا چیوشچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سیلاب کی روک تھام پر کافی اثرات مرتب ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ پانی کے ایسے ذخائر بناتے ہیں جو چیزوں کو بدل کر رکھ دیں اور جس کی وجہ سے سیلاب آجائے اس پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سیلاب کی وجہ سے انجینیئروں کی نوکریاں جاتی رہتی ہیں کیونکہ انھوں نے بہتر طرح سے ڈیزائن نہیں کیا ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ انھوں نے کام بہتر کیا ہوتا ہے لیکن بعد میں وہاں ڈیم بن جاتے ہیں اور وہاں کی آب وہوا تبدیل ہو جاتی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’جتنا بڑا پانی کا ذخیرہ ہوگا اس کے اثرات اتنے زیادہ مرتب ہوں گے۔‘

ڈاکٹر گریشیا نے کہا تحقیق کا یہ شعبہ متنازع تھا کیونکہ سیلاب سے دفاع کے ڈیزائن کو تبدیل کرنا کافی مہنگا تھا۔

اس کے برعکس ٹینیسی ٹیکنولوجیکل یونیورسٹی کے ڈاکٹر فیصل حسین کا کہنا ہے کہ چلی میں کیا گیا مطالعہ مشاہداتی ہے کہ ’لیک ایفکٹ‘ کی وجہ سے بارش کے پیٹرن میں تبدیلی رونما ہوتی ہے لیکن ابھی اس کا فیصلہ ہونا ہے کہ اس سے بارش میں اضافہ ہوتا ہے یا کمی ہوتی ہے۔

بہر حال انھوں نے کہا کہ اس تحقیق سے دنیا بھر میں ڈیم بنانے والوں کی توجہ اس جانب بھی مبذول ہوگی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔