’ملیریا پروگرام کے لیے امداد درکار‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 دسمبر 2012 ,‭ 20:51 GMT 01:51 PST

رپورٹ کے مطابق پچاس ممالک ایسے ہیں جو ملیریا پر قابو پانے کے قریب ہیں

عالمی تنظیم برائے صحت نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ امداد میں کمی کے باعث ملیریا کے خلاف حالیہ کامیابیاں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

تنظیم کی تازہ رپورٹ کے مطابق پچھلی ایک دہائی میں گیارہ لاکھ افراد کی زندگیاں بچائی گئیں لیکن دو ہزار دس سے بارہ کے دوران ملیریا کے لیے مالی امداد میں کمی آئی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2010 میں 219 ملین افراد ملیریا کا شکار ہوئے جن میں سے ساڑھے چھ لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ مالی امداد میں کمی کے مطلب یہ ہے کہ وہ لاکھوں لوگ جو ان علاقوں میں رہتے ہیں جہاں ملیریا عام ہے انہیں ملیریا سے بچاؤ کے سامان اور اس کے علاج تک رسائی حاصل نہیں ہو سکے گی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امداد میں کمی کے باعث مضبوط مچھر دانیوں کی تقسیم اور سپرے کرنے کے پروگرام کی رفتار میں کمی آئے گی۔

رپورٹ کے مطابق پچاس ممالک ایسے ہیں جو ملیریا پر قابو پانے کے قریب ہیں لیکن یہ ممالک ملیریا کے کیسز کا صرف تین فیصد ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ملیریا پروگرام کے سربراہ رابرٹ نیومن نے جنیوا میں کہا کہ ملیریا کے اسّی فیصد کیسز چودہ ممالک میں ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان چودہ ممالک میں ملیریا خطرناک حد تک ہے اور ان ممالک کو مالی امداد کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے خالق نے کہا ’ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ ہم ان اقدامات کی مالی معاونت کریں جس کے ذریعے ملیریا پر کنٹرول حاصل کیا جا رہا ہے۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ملیریا دوبارہ پھیل جائے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جیسے ہی آپ مچھر دانیاں واپس لے لیں گے ملیریا واپس آئے جائے گا۔ آپ جیسے ہی سپرے کرنا بند کر دیں گے ملیریا واپس آجائے گا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔