2013: سائنس کے حوالے سے خبریں کیا ہوں گی؟

آخری وقت اشاعت:  اتوار 30 دسمبر 2012 ,‭ 18:28 GMT 23:28 PST

آئندہ سال برطانیہ میں سائنس کے حوالے سے کون سے اہم موضوعات نمایاں رہیں گے؟ بی بی سی کے نامہ نگاروں کی توقعات۔

ڈیوڈ شکمان، سائنس ایڈیٹر، بی بی سی نیوز

برطانوی حکومت نے ملک کی ماحول دوست ترین حکومت بننے کا عزم کیا ہے

جہاں برطانیہ، فلپائن اور نیو جرسی میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے، وہیں ایک اور ایسے سال کی توقع کی جا رہی ہے جس میں موسمی شدت جان اور املاک کو نقصان پہنچائے گی۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اب ساحلی اور سیلابی علاقوں میں رہنے والوں کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہے یا پھر موسمی تبدیلی ان خطرات میں اضافہ کر رہی ہے۔ آئندہ سال بہت سارے محققین اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

ان سمندری طوفانوں کی ایک ممکنہ وجہ قطبِ شمالی کے ارد گرد کے علاقے میں درجۂ حرارت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس اضافے کی وجہ سے وہاں موجود برف میں کمی، سمندری طوفانوں کی منزل تعین کرنے والی سرد ہوائوں کے رخ پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ چنانچہ آئندہ سال موسمِ گرما میں قطب شمالی کے ارد گرد کے علاقے میں پگھلنے والی برف کی مقدار پر ضرور غور کیا جائے گا۔

موسمی تبدیلی کے بارے میں سوالات اور ان کا تفصیلی جائزہ ستمبر کے ماہ میں متوقع ’انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج‘ کی ایک رپورٹ میں سامنے آئے گا۔ ادارے کی اس موضوع پر آخری رپورٹ سنہ دو ہزار سات میں آئی تھی جس کے بعد سائنس اور موجود معلومات دونوں میں ترقی ہو چکی ہے۔ انٹرنیٹ پر لیک ہونے والی متوقع رپورٹ کی ایک اشاعت سے پتا چلتا ہے کہ انسانوں کو موسمی تبدیلی کا ذمہ دار ٹھرانے کے بارے میں الفاظ کے استعمال پر بحث کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب سائنس کی ترقی کے ساتھ ابھرتی ہوئی جدید صنعتوں میں سرمایہ کاری سے نئے صنعتی انقلاب کی توقع کی جا رہی ہے۔ ’سینتھیٹک بائیولوجی‘ یا مصنوعی حیاتیات اور ’ریجنریٹوو میڈسن‘ ایسے شعبات ہیں جو کہ بے شک دلچسپ مگر متنازع انکشافات سامنے لائیں گے۔

اور ایک ذکر اردن میں بنائے گئے ’سیسمی‘ نامی ’سینکروٹرون لائٹ سورس‘ کا جو کہ عرب، ترک، ایرانی اور اسرائیلی شہریوں نے مل کر بنایا ہے۔ سائنس نے اب وہ دروازے کھول دیے ہیں جو کہ سفارتکاری نہیں کھول سکی۔

میٹ مگراہ، نامہ نگار برائے ماحولیات، بی بی سی نیوز ویب سائٹ

کی سٹون پائپ لائن‘ کے بارے میں صدر اوباما کا حتمی فیصلہ بھی متوقع ہے

دو ہزار تیرہ کے متنازع ترین معاملات میں سے ایک حکومت کی جانب سے بجوؤں جو نیولوں کی ایک قسم ہیں کی نسل کشی کا منصوبہ ہوگا۔ گذشتہ اکتوبر میں اس منصوبے کو ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے حامیوں اور مخالفوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ آئندہ سال میں سیاسی اور سائنسی بیان بازی جاری رہے گی۔ اس منصوبے کا مقصد بجوؤں کی زیادہ تعداد کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا تھا۔

اس کے علاوہ ایک اور معاملہ جو آئندہ سال زور پکڑے گا وہ ہے برطانیہ میں ’ایس ڈائی بیک‘ نامی بیماری کا۔ اس بیماری کے پھیلاؤ کے بارے میں اعداد و شمار متوقع ہیں اور حکومت نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ شاید زیادہ خوش آئند نہیں ہوں گے۔

دو ہزار تیرہ میں ماحولیات کے سلسلے میں تونائی اہمیت رکھے گی۔ حکومت نے کورڈلا نامی کمپنی کو ’ہائیڈرولک فریکنگ‘ کی تجرباتی بنیادوں پر چند مقامات پر کام کی اجازت دے دی ہے۔ شیل اور گیس پر کام کرنے والی دیگر کمپنیاں ان پر نظر رکھیں گی۔

ادھر امریکہ میں ’کی سٹون پائپ لائن‘ کے بارے میں صدر اوباما کا حتمی فیصلہ بھی آنے والا ہے۔ اس پائپ لائن کامقصد سرحد پار کینیڈا کی ریاست البرٹا سے خام تیل کی لا گت ریاست ٹیکساس کی ریفائنریوں تک پہنچانا ہے۔ چند ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ یہ فیصلہ صدر اوباما کا موسمی تبدیلی اور تونائی کے معاملات پر مستقبل کے لائحۂ عمل کی طرف اشارہ کرے گا۔

جن جانوروں کا وجود خطرے میں ہے، ان کی خرید و فروخت سے متعلق تھائی لینڈ میں ہونے والے اجلاس میں بھی کئی مشکلات سامنے آئیں گی۔ اس سلسلے میں کچھ لوگ تو برفانی ریچھ کے اعضا کی تجارت پر مکمل پابندی چاہتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ برفانی ریچھ کی اصل دشمن ماحولیاتی تبدیلی ہے، نہ کہ تجارت۔

مارک کِنور، نامہ نگار برائے ماحولیات، بی بی سی نیوز ویب سائٹ

حکومت نے جنگلات کی فروخت کا ایک منصوبے تیار کیا تھا جس کے خلاف انٹرنیٹ پر تقریباً پانچ لاکھ افراد نے تحریک چلائی

آئندہ سال وزارتِ ماحولیات، خوراک اور دیہی امور کے لیے انتہائی مصروف رہیں گے۔ انھیں بجوؤں کی نسل کشی، درختوں کی بائیو سیکورٹی اور مشترکہ کاشتکاری پالیسی میں اصلاحات سے متعلق دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ تمام معاملات وزارت کے لیے کٹھن اور خطرناک موضوعات ہیں۔ اگر وزرات توقعات پر پورا نہ اترے یا اپنے عزائم میں کامیاب نہ رہی تو اس کی وجہ سے موجودہ حکومت کا ’ماحول دوست ترین حکومت‘ ہونے کا عزم ان کے لیے نقصان دے بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

جولائی دو ہزار بارہ میں برطانیہ کے جنگلات کے بارے میں ایک آزادانہ تجزیے پر حکومتی جواب جنوری میں متوقع ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں حکومت کی ملکیت میں جنگلات قومی اثاثہ ہیں اور انھوں فروخت نہ کیا جائے۔

اس رپورٹ کو تیار کرنے والا پینل مارچ دو ہزار گیارہ میں تشکیل دیا گیا تھا۔ حکومت نے جنگلات کی فروخت کا ایک منصوبہ تیار کیا تھا جس کے خلاف انٹرنیٹ پر تقریباً پانچ لاکھ افراد نے تحریک چلائی۔ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ پینل کی تجاویز پر عمل کرے گی۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔