ڈرون مار گرانے والی لیزر ٹیکنالوجی کا تجربہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 9 جنوری 2013 ,‭ 01:13 GMT 06:13 PST

اس نظاموں کو مختلف موسموں میں آزمایا گیا ہے

جرمنی کی ایک کمپنی نے لیزر ہتھیاروں کا ایسا نظام ایجاد کیا ہے جس کی مدد سے ایک میل سے زائد فاصلے سے دو ڈرون طیاروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

جرمنی کی رائن میٹل ڈیفنس کمپنی نے اس لیزر ہتھیار کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔

اس کمپنی نے زیادہ توانائی کے حامل لیزر آلات کا استعمال کیا ہے جس کی مدد سے تیزی سے حرکت کرتے ہوئے ڈرون طیاروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اس لیزر سسٹم میں دو ہتھیار موجود ہوتے ہیں اور ان کی مدد سے ایک کلومیٹر فاصلے سے فولاد کے گارڈر کو کاٹا جا سکتا ہے۔

کمپنی کا منصوبہ ہے کہ اس نظام کو موبائل یعنی آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجانے کے قابل بنایا جائے اور اس میں خود کار توپیں موجود ہوں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ پچاس کلو واٹ توانائی کی حامل اس سسٹم میں ریڈار اور آپٹیکل نظاموں کے تحت تیزی سے آنے والے ڈرونز کی نشاندہی اور ان پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔

کمپنی کے مطابق پچاس میٹر فی سکینڈ کی رفتار سے پرواز کرنے والے ڈرون جب فائرنگ کے لیے مختص علاقے میں پہنچے تو ان کو مار گرایا گیا۔

اس لیزر سسٹم میں پندرہ ملی میٹر موٹے فولاد کے گارڈر کو کاٹنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔

کمپنی نے اس نظام کی برف، بارش سمیت مختلف موسموں حالات میں آزمائش کی ہے۔

رائن میٹل ڈیفنس کمپنی کے مطابق ان کا منصوبہ ہے کہ اس لیزر سسٹم کومختلف حرکت کرتی گاڑیوں پر آزمایا جائے اور اس کے اوپر پینتیس ایم ایم کی توپ نصب کی جائے۔

مختلف مالک اور دفاعی سازو سامان تیار کرنے والے کمپنیاں لیزر ٹیکنالوجی کے حامل ہتھیار بنانے پر کام کر رہی ہیں۔ سال دو ہزار دس میں ایک امریکی کمپنی نے ایئر شو کے دوران ایئر کرافٹ کو مار گرانے والی ایک خصوصی لیزر کو پیش کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔