نیند کے مسائل مریخ کے سفر کے لیے خطرہ

آخری وقت اشاعت:  منگل 8 جنوری 2013 ,‭ 05:31 GMT 10:31 PST

اس تجربے میں تین روسی، دو یورپی اور ایک چینی رضاکار خلابازوں نے حصہ لیا تھا

سیارہ مریخ پر ممکنہ انسانی مشن کے بارے میں تجربات کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ اس سفر کے دوران عملہ نیند کی کمی، تنہائی اور ڈپریشن کا شکار ہو سکتا ہے۔

اب تک کوئی بھی خلا باز خلا میں چھ ماہ سے زائد وقت نہیں گزارتا اور مریخ 500 نامی منصوبے کا مقصد یہ جاننا ہے کہ اگر سرخ سیارے پر خلابازوں کو روانہ کیا جائے تو سترہ ماہ پر محیط اس سفر کے ان پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تجربے کے دوران عملے کی نیند کے اوقات اور نمونے مختلف ہونے سے مشکلات پیدا ہوئیں۔

اس تحقیق کے نتائج کے مطابق تمام موجودہ خلابازوں کو مریخ کے سفر کے لیے موزوں قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔

اس تحقیقی ٹیم کے رکن یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے پروفیسر میتھیئس بیسنر کا کہنا ہے کہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ وہ خلاباز جنہیں مریخ کے سفر پر روانہ کیا جانا ہے ان کی صلاحیتوں کا امتحان دن اور رات کے قدرتی چکر کے بغیر ہونا چاہیے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر انسان ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور ہمیں صحیح افراد کا انتخاب کرنا ہوگا، ایسا عملہ جو قابل ہو اور پھر ان کی باقاعدہ تربیت ہونی چاہیے۔‘

اس تجربے میں تین روسی، دو یورپی اور ایک چینی رضاکار خلابازوں نے حصہ لیا تھا اور انہوں نے ایک آزمائشی رہائش گاہ میں پانچ سو بیس دن گزارے۔

تجربے کے دوران زیادہ تر وقت ان افراد کا بیرونی دنیا سے محدود رابطہ ہی رہا۔ ان کے خلائی جہاز میں کوئی کھڑکی نہیں تھی اور بیرونی دنيا سے ان لوگوں کے رابطے میں خلاء سے بات چیت کے دوران ہونے والے وقت کے وقفے کو ذہن میں رکھا گیا۔ عملے اور مشن کنٹرول کے درمیان رابطے میں بیس منٹ کا فرق تھا تاکہ خلا سے زمین تک سگنل پہنچنے کی مدت جیسا احساس برقرار رہے۔

ان خلابازوں پر مریخ کے ممکنہ سفر کے اثرات جاننے کے لیے سو کے قریب تجربات کیے گئے اور اب یہ پہلا موقع ہے کہ ان تجربات کے نتائج سامنے آئے ہیں۔

دو ارکان ایسے تھے جنہوں نے ان حالات کا بخوبی مقابلہ کیا

اس مشن کے دوران خلابازوں میں دوسرے سے چوتھے مہینے کے دوران شکایات سامنے آئیں۔

نیند کے حوالے سے کیے گئے تجربات سے محققین کو پتہ چلا کہ عملے کا ایک رکن دن اور رات کی تمیز بھول گیا اور ساتھی عملے سے اس کا تال میل بالکل بھی باقی نہیں رہا اور اکثر اوقات جب باقی عملہ مشن پر کام کر رہا ہوتا تو اس رکن کے لیے وہ آدھی رات کا وقت ہوتا۔

نتائج سے پتہ چلا ہے کہ مشن کے دوران عملے کے زیادہ تر ارکان کو زیادہ نیند آئی اور اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی چستی میں بھی کمی آتی گئی لیکن ایک رکن پر اس کے متضاد اثرات دیکھے گئے اور اس کی نیند میں کمی آتی رہی اور ایک وقت ایسا آیا کہ اس نے سونا چھوڑ دیا۔

اس تجرباتی مشن کے دوران عملے کے تمام ارکان کو سات دن میں ایک مرتبہ اپنی کارکردگی کا تجزیہ کروانا لازم تھا اور نہ سونے والا شخص اس ٹیسٹ کے دوران سب سے زیادہ غلطیوں کا مرتکب پایا گیا۔

اس کے علاوہ عملے کے ایک رکن میں ڈپریشن کی شکایت بھی دیکھی گئی جبکہ دو ارکان ایسے تھے جنہوں نے ان حالات کا بخوبی مقابلہ کیا۔

پروفیسر میتھیئس بیسنر کے مطابق ’ان میں سے چار ایسی مشکلات کا شکار رہے کہ آپ سوچنے پر مجبور ہوں کہ ان جیسے کسی فرد کو اس مشن پر نہ بھیجا جائے اور اگر بھیجنا ضروری ہے تو انہیں صحیح تربیت دی جانی لازمی ہے۔‘

خلائی ادویات کے ماہر پروفیسر کیون فونگ کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ نیند کی کمی مستقبل میں مریخ پر جانے والے خلابازوں کے لیے اہم مسئلہ ہوگی۔ ’اس سے سنجیدگی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ تمام عملے کو اس مشکل کا سامنا ہوگا اور یہ حفاظتی نقطۂ نگاہ سے مشن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔‘

خیال رہے کہ اس سے قبل روسی سائنسدانوں نے ’دی مارس فائیو ہنڈرڈ آئسولیشن سٹڈی‘ نامی اس تجرباتی مہم کو کامیاب قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔