سائبر چور ’ریڈ اکتوبر‘ کا پتہ چل گیا

آخری وقت اشاعت:  پير 14 جنوری 2013 ,‭ 18:34 GMT 23:34 PST

روسی محقیقین نے سائبر حملے کے ایک ا یسے بڑے پروگرام کا پتہ چلایا ہے، جس کے بارے میں باور کیا جا رہا ہے کہ وہ سنہ دو ہزار سے خفیہ فائلیں چرا رہا تھا۔

کیسپرسکی ریسرچ لیبارٹری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سائبر حملے کا یہ پروگرام خصوصی طور پر سفارت خانوں، جوہری تحقیقاتی اداروں، گیس اور تیل کے اداروں کی خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ بہت ہی حساس قسم کا سائبر حملہ تھا جس کا مقصد خفیہ معلومات کی فائیلیں چرانا تھا، یہاں تک کہ وہ ایسی فائلیں بھی نکا ل لیتا تھا جنھیں ڈیلیٹ کیا جاچکا ہو۔

اس بارے میں سرے یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ایلن ووڈ ورڈ کا کہنا ہے کہ حملہ آور پروگرام کی ڈایزائینگ اس طرح سے کی گئی تھی کہ یہ کمپیوٹر میں موجود تمام پروگراموں کی فائیلوں میں داخل ہو سکتا تھا، چاہے وہ فائل ورلڈ پر وگرام میں ہو، پی ڈی ایف فائل ہو، یا کمپیوٹر کے کسی اور خانے میں رکھی ہو۔

" یہ اسقدر حساس نوعیت کا پروگرام ہے کہ یہ یو ایس بی میں سے وہ فائیلیں پڑھ لیتا ہے جو ڈیلیّٹ کی جا چکی ہوتی ہیں، مگر جیسے ہی کسی کمپوٹر میں یو ایس بی لگائی جاتی ہے یہ پروگرام ان فائیلوں کو واپس لانے کی کوشش کرتا ہے۔"

کیسپرسکی ریسرچ لیبارٹری کے ایک بیان کہا گیا ہے کہ سائبر حملے کا اصل ہدف مشرقی یورپ کے ملک اور سابق سوویت یونین کی وسطی ایشا کی ریاستیں تھیں، تاہم کسی اور ملک کی خفیہ فائلوں کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کی رسائی مغربی یورپی ممالک اور شمالی امریکہ تک تھی۔

کمپنی کے چیف کا لوک نے بتایا کہ اس حملے کا ا نکشاف گزشتہ برس اکتوبر میں ہوا تھا اُسی مناسبت سے اس سائبر پروگرام کو’ریڈ اکتوبر‘ کا نام دیا گیا ہےآ اُن کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ہمیں پتہ چلا ہمیں فوراً ہی اندازہ ہوگیا کہ یہ حملہ بہت بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے جس میں کچھ بڑی بڑی تنظیموں کی اہم خفیہ معلومات حاصل کی جا رہی ہے۔

اس کا مقصد ملک گیر سیاسی نوعیت کی انٹیلیجنس، کلاسیفائید کمپیوٹر نظام اور نجی ٹیلی فونز میں موجود ڈیٹا حاصل کرنا تھا۔

جاسوس سائبر پروگرام کی جزیات کے بارے میں کالوک کا کہنا تھا کہ یہ اس قدر حساس نوعیت کا پروگرام ہے کہ یہ یو ایس بی میں سے وہ فائلیں بھی پڑھ لیتا ہے جو ڈیلیٹ کی جا چکی ہوتی ہیں، مگر جیسے کسی کمپوٹر میں یو ایس بی لگائی جاتی ہے یہ پروگرام ان فائیلوں کو واپس لانے کی کوشش کرتا ہے۔

اس پروگرام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ خود کو چھپا لینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ پروفیسر ایلن ووڈ ورڈ کہتے ہیں’ کمپیوٹر کو اگر اس پروگرام کے بارے میں پتہ چل جائے تو یہ فوراً چھپایا یا غائب کیا جا سکتا ہے اور جب کمپیوٹر یہ سمجھے کہ اب خطرہ ٹل گیا ہے تو فوراً ایک عدد ای میل بھیج کر پروگرام کو واپس بلا لیں اور کام پھر سے شروع کر لیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔