سگریٹ نوشی پر پابندی سے دمے میں کمی

آخری وقت اشاعت:  پير 21 جنوری 2013 ,‭ 08:39 GMT 13:39 PST

مطالعہ کے لکھاری کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ اب گھروں کے اندر بھی تمباکو نوشی نہیں کرتے

محققین کا کہنا ہے کہ انگلستان میں سگریٹ نوشی پر پابندی کا قانون متعارف ہونے کے بعد شدید دمہ کی شکایت کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونے والے بچوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

تحقیق کے مطابق بند عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی کے پہلے سال دمہ کی شکایت کی وجہ سے بچوں کے ہسپتال میں داخلے میں بارہ فیصد کمی ہوئی۔

محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہت سے لوگ اب گھروں کے اندر بھی تمباکو نوشی نہیں کرتے۔

تحقیق کے سربراہ محقق پروفیسر کرسٹوفر میلٹ کے مطابق سگریٹ نوشی پر پابندی کے قانون نے غیر متوقع نتائج دیے ہیں اور اس کی وجہ سے لوگوں کے رویوں میں خوش آئند تبدیلیاں آئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ جب سگریٹ نوشی پر پابندی کا قانون متعارف کرایا گیا تو لوگ اپنےگھروں میں بھی سگریٹ نوشی ترک کرنے کی عادت ڈال رہے ہیں کیونکہ انہیں اس قانون کے تحت عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی نہ کرنے کے فائدے نظر آرہے ہیں۔ اس لیے اب لوگ تیزی سے گھروں میں سگریٹ نوشی ترک کر رہے ہیں۔اس سے زیادہ فائدہ بچوں کو ہوتا ہے کیونکہ وہ سگریٹ کے دھوئیں سے بچ جاتے ہیں۔‘

امپیریل کالج لندن کے محققین نے این ایچ ایس کے اپریل 2002 کے اعدادوشمار پر بھی نظر ڈالی۔

پیڈریاٹرک جرنل میں اپنی تحقیقات پیش کرتے ہوئے محققین نے کہا کہ جولائی 2007 میں سگریٹ نوشی پر پابندی سے پہلے شدید دمہ کی شکایت کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونے والے بچوں کی تعداد سالانہ دو فیصد بڑھ رہی تھی۔

"ہم سمجھتے ہیں کہ جب سگرٹ نوشی پر پابندی کا قانون متعارف کرایا گیا تو لوگ اپنے اندر،گھروں میں بھی سگرٹ نوشی ترک کرنے کی عادت ڈال رہے ہیں۔کیونکہ انہیں اس قانون کے تحت عوامی مقامات پر سگرٹ نوشی نہ کرنے کے فائدے نظر آرہے ہیں۔ اس لیے اب لوگ تیزی سے گھروں میں سگرٹ نوشی ترک کر رہے ہیں۔اس سے زیاداہ فائدہ بچوں کو ہوتا ہے کیونکہ وہ سگرٹ کے دھویں سے بچ جاتے ہیں"

محقق پروفیسر کریسٹوفر میلٹ

محققین نے پابندی کے بعد حساب لگایا تو پہلے سال دمہ کی شکایت والے بچوں کی ہسپتال میں داخلے میں بارہ فیصد کمی آئی جبکہ اس کے بعد دو سال تک اس میں تین فیصد کمی آئی۔ ان کاکہنا ہے کہ اس طرح تین سال میں 6،800 بچے ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے۔

یہ کمی تمام عمر کے بچوں ، لڑکوں ، لڑکیوں، غریب و امیر، شہری اور دیہی علاقوں میں دیکھی گئی۔

صحت کے خیراتی ادارے ایستھما یو کے سے تعلق رکھنے والی ایمیلی ہمفریز نے اس تحقیق کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم اس کے لیے مہم چلاتے رہے۔ یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ سگریٹ نوشی پر پابندی کا قانون متعارف کروانے کے بعد دمہ کی شکایت کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونے والے بچوں کی تعداد میں کمی ہوئی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں اندازہ تھا کہ بالواسطہ سگریٹ نوشی نقصان دہ ہے جس سے بچوں کو دمہ کی شکایت ہو جاتی ہے اور وہ ہسپتال جاتے ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔