سونگھنے کی حس اور کوانٹم فزکس

آخری وقت اشاعت:  پير 28 جنوری 2013 ,‭ 14:24 GMT 19:24 PST

حواسِ خمسہ میں سے سونگھنے کی حس سب سے زیادہ پراسرار ہے

انسانوں پر کیے جانے والے تجربات سے ایک نئے لیکن متنازع نظریے کو تقویت ملی ہے کہ انسانی قوتِ شامہ کوانٹم فزکس کو بروئے کار لاتی ہے۔

اس تحقیق میں اس پرانے نظریے کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ حسِ شامہ صرف ان مالیکیولوں کی شکل پر انحصار کرتی ہے جنھیں ہم ہوا میں سونگھتے ہیں۔

اس کے بجائے حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان مالیکیولوں کا ارتعاش ان کی مخصوص خوشبو کا باعث بنتا ہے۔

سائنسی جریدے پی ایل او ایس میں شائع ہونے والی تحقیق میں لوگوں کو دو ایسے مالیکیول سنگھائے گئے جن کی شکلیں ایک جیسی تھیں لیکن ان کے ارتعاش مختلف تھے۔ انسان ان مالیکیولوں کو سونگھ کر فرق محسوس کر سکتے ہیں۔

اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ حیاتیاتی نظام کوانٹم اثرات کو استعمال کرتے ہیں۔

یہ نظریہ سب سے پہلے لوکا ٹورن نے پیش کیا تھا، جو اس وقت یونان میں فلیمنگ بایو میڈیکل ریسرچ سنٹر میں کام کر رہے ہیں۔ تاہم یہ نظریہ اب تک متنازع ہے۔

یہ خیال کہ مالیکیولوں کی شکل ان کی بو کا تعین کرتی ہے، بہت پرانا ہے۔ تاہم ڈاکٹر ٹورن کہتے ہیں کہ اس نظریے میں جھول موجود ہیں۔

انھوں نے ایسے مالیکیولوں کی مثال دی جن میں سلفر اور ہائیڈروجن کے ایٹم آپس میں جڑے ہوئے تھے۔ ان کی شکلیں بہت مختلف ہیں، لیکن ان سب کی بو خراب انڈوں کی طرح ہوتی ہے۔

ڈاکٹر ٹورن نے بی بی سی کو بتایا: ’روایتی نقطۂ نظر سے اس بات کی وضاحت کرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن اگر آپ اسے متبادل نظریے کے طور پر دیکھیں جس کے تحت مالیکیولوں کا ارتعاش ان کی بو کا تعین کرتا ہے، تو پھر ہائیڈروجن اور سلفر کا معما حل ہو جاتا ہے۔‘

مالیکیول ایٹموں کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ تصور کریں کہ جیسے وہ سپرنگوں کی مدد سے آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کی مناسبت سے حرکت کر سکتے ہیں۔ صرف بالکل درست فریکوئنسی ہی ان ’سپرنگوں‘ میں ارتعاش پیدا کر سکتی ہے۔ 1996 میں ڈاکٹر ٹورن نے ایک مقالے میں لکھا تھا کہ بُو کو ارتعاش کی مدد سے بیان کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ مکینزم ’غیر لچک دار الیکٹرانی سرنگ‘ (inelastic electron tunnelling) کہلاتے ہیں، جس میں ایک مخصوص ’بُودار‘ مالیکیول کی موجودگی میں ناک کے اندر موجود خوشبو سونگھنے والے ریسیپٹر نظام کے اندر موجود ایک الیکٹران ’اچھل’ کر مالیکیول کے کسی ایک بانڈ میں توانائی کا ایک کوانٹم خارج کر دیتا ہے جس سے مالیکیول کا ’سپرنگ‘ گھومنے لگتا ہے۔

البتہ خوشبو کی سائنس کی دنیا کا کہنا ہے کہ اس عمل کے شواہد ناکافی ہیں۔

اس نظریے کو جانچنے کے لیے ایک طریقہ یہ ہے کہ یکساں شکل لیکن مختلف ارتعاش والے دو مالیکیول تیار کیے جائیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس مالیکیول کے ہائیڈروجن ایٹموں کی جگہ ہائیڈروجن کے بھاری آئسوٹاپ ڈیوٹریئم لگا دیے جائیں۔

امریکہ کی راک فیلر یونیورسٹی کی لیزلی ووشال نے 2004 میں ڈاکٹر ٹورن کے نظریے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کے طور پر ایسیٹوفینون کے ’نارمل‘ ہائیڈروجن والے مالیکیول اور اس کے ڈیوٹریئم والے جڑواں مالیکیول استعمال کیے۔

اس تجربے سے پتا چلا کہ انسان دونوں مالیکیولوں میں فرق محسوس نہیں کر سکتے اور یہ کہ ارتعاش کا بُو کے تعین میں کوئی کردار نہیں ہے۔

تاہم 2011 میں ڈاکٹر ٹورن اور ان کے ساتھیوں نے ایک مقالے میں لکھا کہ مکھیاں دونوں اقسام کے مالیکیولوں میں فرق محسوس کر سکتی ہیں۔

جب اسی تجربے کو انسانوں میں دہرایا گیا تو معلوم ہوا کہ انسان بھی ان مالیکیولوں میں فرق محسوس نہیں کر سکتے۔ لیکن پھر سائنس دانوں نے دو بہت بڑے مالیکیولوں میں یہ تجربہ دہرایا جن میں ہائیڈروجن اور ڈیوٹریئم کے زیادہ بانڈ پائے جاتے ہیں۔

"جب تک خوردبین کی مدد سے بو کے ریسپٹروں کا مشاہدہ نہ کر لیا جائے، اس وقت تک یہ تنازع حل ہونے والا نہیں۔"

نوبیل انعام یافتہ سائنس دان رچرڈ ایکسل

اس تجربے میں شرکاء اور سائنس دانوں دونوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ شرکاء کون سا مالیکیول سونگھ رہے ہیں۔ تاہم شرکاء نے دونوں مالیکیولوں میں فرق محسوس کر لیا۔

لیکن اس کے باوجود پروفیسر ووشال کہتی ہیں کہ ارتعاشی نظریہ محض خیال آرائی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اسے ثابت کرنا ناممکن ہے، اس پر بحث کبھی ختم نہیں ہو گی لیکن پھر بھی چیزوں کی بو کے بارے میں روایتی نظریہ زیادہ قابلِ قبول ہے۔

یونیورسٹی آف کارڈف کے ٹم جیکب کہتے ہیں کہ یہ تجربہ ارتعاشی نظریے کی حمایت ضرور کرتا ہے لیکن اسے ثابت نہیں کرتا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک اس نظریے کو کلی طور پر ثابت یا رد نہیں کیا جا سکا۔

کولمبیا یونیورسٹی کے نوبیل انعام یافتہ سائنس دان رچرڈ ایکسل کہتے ہیں کہ جب تک خوردبین کی مدد سے بو کے ریسپٹروں کا مشاہدہ نہ کر لیا جائے، اس وقت تک یہ تنازع حل ہونے والا نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔