سمارٹ فون کے سینسر سے سکیورٹی رسک

آخری وقت اشاعت:  منگل 29 جنوری 2013 ,‭ 15:33 GMT 20:33 PST

ہیکر مخصوص آلات کی مدد سے فون کو ان لاک کرنے کا کوڈ معلوم کر سکتے ہیں

ٹیکنالوجی سکیورٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ سمارٹ فونز کے سینسروں کے حاصل کردہ ڈیٹا کی مدد سے مجرم پیشہ افراد فون کو لاک کرنے کا کوڈ معلوم کر سکتے ہیں۔

بہت سے لوگ اپنے سمارٹ فون لاک کر لیتے ہیں تاکہ کوئی غیر متعلق شخص ان تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ بعض فونز میں اس مقصد کے لیے پیٹرن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن ان فونوں کے اندر موجود ایکسیلرومیٹر کی حرکت کا ڈیٹا حاصل کر کے ان فونوں کو لاک کرنے والا کوڈ معلوم کیا جا سکتا ہے۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ بہت سے سمارٹ فونوں کے سینسروں تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

امریکی ریاست پین سلوینیا کے سوارتھمور کالج کے پروفیسر ایڈم جے اویو نے ایک سمارٹ فون کی ایکسیلیرومیٹر سے حاصل کردہ ڈیٹا کی مدد سے فون کو ہیک کرنے کی کوشش کی۔ عام طور پر یہ سینسر فون کی تین جہتوں میں حرکت کا ریکارڈ رکھتا ہے، یعنی اطراف میں، آگے پیچھے، اور اوپر نیچے۔

یہ سینسر فون پر گیم کھیلنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے فون کو ہلا کر گیند کو آگے لڑھکانا یا کار چلانا، وغیرہ۔

ڈاکٹر اویو اور ان کے ساتھی سائنس دانوں نے یہ معلوم کیا کہ ایکسیلیرومیٹر سے حاصل شدہ ڈیٹا کو یہ معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کہ فون کو ان لاک کرنے کے لیے اس کی سکرین پر کہاں انگلی سے ’ٹیپ‘ یا ’سوائپ‘ کیا گیا ہے۔

تجربات میں ایکسیلیرومیٹر سے حاصل شدہ ڈیٹا حاصل کر کے اس کا تجزیہ کیا گیا اور اسے پہلے سے موجود ٹیپ اور سوائپ کی ’ڈکشنری‘ سے میچ کیا گیا۔

ڈاکٹر اویو کہتے ہیں کہ یہ طریقہ ’حیرت انگیز طور پر‘ کامیاب رہا۔ تجربات کے دوران سافٹ ویئر کو غلطیاں کرنے کے جتنے موقعے دیے گئے، وہ اتنا ہی بار کامیاب رہا۔

پانچ کوششوں کے بعد یہ سافٹ ویئر 43 فیصد پِن اور 73 فیصد سوائپ پیٹرن کا اندازہ لگانے میں کامیاب رہا۔ تاہم ڈاکٹر اویو کے مطابق یہ پن اور پیٹرن 50 نمبروں اور پنوں میں سے منتخب کیے گئے تھے۔

"سمارٹ فون پر موجود زیادہ سنسروں کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اندر زیادہ سے زیادہ ڈیٹا موجود ہے، جس کے باعث ان کی سکیورٹی اور بھی اہم ہو جاتی ہے۔سسٹم میں ایک رخنہ موجود ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ڈیٹا غلط طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔۔۔ ہمیں ڈیٹا کے تحفظ کے لیے زیادہ تعاون کی ضرورت ہے۔‘"

سکیورٹی فرم ’لُک آؤٹ‘ کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر کیون میہافی

جب فون استعمال کرنے والے چل پھر رہے ہوتے ہیں تب فون سے حاصل شدہ ڈیٹا کی مدد سے پن کا سراغ لگانا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ بہت سے تحقیق کار اس لیے سینسروں میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ ان پر زیادہ سخت کنٹرول لاگو نہیں ہوتے جو فون کے دوسرے فنکشنوں پر کیے جاتے ہیں۔

موبائل سکیورٹی فرم ’لُک آؤٹ‘ کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر کیون میہافی کہتے ہیں، ’سمارٹ فون پر موجود زیادہ سنسروں کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اندر زیادہ سے زیادہ ڈیٹا موجود ہے، جس کے باعث ان کی سکیورٹی اور بھی اہم ہو جاتی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں، ’سسٹم میں ایک رخنہ موجود ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ڈیٹا غلط طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔۔۔ ہمیں ڈیٹا کے تحفظ کے لیے زیادہ تعاون کی ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔