مریخ پر پتھر کی کھدائی کا آغاز

آخری وقت اشاعت:  پير 4 فروری 2013 ,‭ 01:07 GMT 06:07 PST

پہلے اور بعد: مریخ گاڑی نے پہلی بار اپنے ڈرل سسٹم کو استعمال کیا ہے

مریخ پر بھیجی جانے والی روبوٹک گاڑی کیورسٹی نے پہلی بار اپنا ڈرل سسٹم استعمال کر کے سیارے کی سطح پر موجود گیل نامی گڑھے کے اندر ایک چپٹے پتھر میں سوراخ کیا ہے۔

کیوروسٹی گذشتہ برس چھ اگست کو سرخ سیارے پر اتری تھی۔ اس کے بعد سے اس نے مشرق کی طرف اس جگہ تک کا سفر کیا ہے جس کے بارے میں مواصلاتی سیاروں سے لی گئی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں تین مختلف ارضیاتی خطوں کا ملاپ ہوتا ہے۔

اس کارروائی سے پہلے اور بعد میں لی جانے والی تصاویر سے مریخ گاڑی کے آلے کی وجہ سے بننے والا گڑھا دیکھا جا سکتا ہے۔

اگرچہ سابقہ مریخ گاڑیوں نے بھی پتھروں کی سطحیں کھرچی ہیں، کیوروسٹی وہ واحد گاڑی ہے جو پتھر کے اندر ڈرل کر سکتی ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے انجینیئر اس کارروائی کو مرحلہ وار طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔ انھیں یہ دیکھنا ہے کہ آیا ڈرل اور مریخی پتھر دونوں توقعات کے مطابق عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔

اگر پتھر مناسب نکلا تو پھر اس میں کئی سوراخ کیے جائیں گے، اور پھر اس سے بننے والے سفوف کو کیوروسٹی پر موجود تجربہ گاہ میں لایا جائے گا۔

مریخ گاڑی کا مشن یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا گیل نامی اس گڑھے میں ماضی میں کبھی ایسا ماحول رہا ہے جو جراثیمی زندگی کے لیے سازگار ہو۔

اس تحقیق میں پتھروں کی ساخت معلوم کرنا بے حد ضروری ہے کیوں کہ وہاں ان ارضیاتی حالات کا سراغ موجود ہو گا جس کے تحت وہ وجود میں آئے تھے۔

پتھر کے اندر چند سنٹی میٹروں تک ڈرل کر کے تازہ نمونہ حاصل کیا جا سکتا ہے جو مریخ کی سطح پر موسمیاتی تغیر یا تابکاری کے نقصانات سے محفوظ رہا ہو۔

اس پتھر کا نام بھی رکھا گیا ہے، یعنی جان کلائن۔ یہ ناسا کے حال ہی میں وفات پانے والے انجینیئر کا نام ہے جنھوں نے اس منصوبے پر کام کیا تھا۔

سائنس دان کیوروسٹی کی اب تک کی کارکردگی سے بے حد مطمئن ہیں۔ وہاں کئی پتھروں پر کیے جانے والے تجزیات سے پتا چلا ہے کہ مریخ کی سطح پر کسی زمانے میں پانی موجود تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔