پائریسی صرف ہالی وڈ کے لیے بڑا مسئلہ ہے؟

آخری وقت اشاعت:  پير 4 فروری 2013 ,‭ 13:19 GMT 18:19 PST

میگا اپلوڈ نامی صیب سائٹ پر پائریسی زیادہ الزامات لگے

تمام طرح کی فائلیں جمع کرنے والی سائٹ ’میگا‘ جس طرح کی فائلیں جمع کرتی ہے اس سلسلے میں اس پر سخت نکتہ چینی ہوتی رہی ہے لیکن غیر قانونی طور پر کاپی رائٹ والا موادا شیئر کرنا اس کا ایک علیحدہ بڑا مسئلہ ہے۔

اس سائٹ کے چلانے والوں کادعویٰ ہے کہ ان کی سائٹ پائریسی کے مسائل کا حصہ نہیں بنےگی۔

لیکن انٹریٹ پر فرد واحد کی آزادی کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس ویب سائٹ پر جو مواد شیئر کیا جاتا ہے اس سے بلا شبہ کاپی رائٹ کے اصولوں کی خلاف ورزي ہوتی ہے۔

میگا اپنے وقت کی مقبول ترین سائٹ ’میگا اپلوڈ‘ کا نیا چہرہ ہے جس پر سائن اپ کرنے کے بعد صارفین پچاس جی بی تک کا ڈیٹا محفوظ کر سکتے ہیں۔ یہ گوگل، ایپل اور مائیکروسافٹ جیسی کمپنیوں کی جانب سے مفت فراہم کی گئی اپ لوڈ کرنے کی جگہ سے کئی گنا زیادہ ہے۔

یہ ایک ایسی ویب سائٹ ہے جس کا دعویٰ ہے کہ اس پر بڑی تعداد میں فائلوں کو محفوظ کیا جاسکتا ہے اور اس تک کسی بھی کمپیوٹر سے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

چونکہ اس سائٹ پر مواد انکرپٹیڈ ہوتا ہے یعنی اسے خاص طریقے سے انٹرنیٹ پر محفوظ کرنے کے لیے مختصر اور پیچدہ نظام کے تحت ہلک بنایا جاتا ہے۔ ان تمام تبدیلیوں کی وجہ سے ویب سائٹ میگا کا سٹاف بھی اس مواد تک رسائی نہیں حاصل کر سکتا کیونکہ اس کی محفوظ کردہ ہیت اتنی بدل چکی ہوتی ہے۔

چونکہ اس ویب سائٹ کا مقصد مواد کو شیئر کرنا ہے اس لیے اس پر موجود فائلوں کو جو چاہے خاندان کی تصاویر ہوں یا گھر کی کوئي ویڈیو ریکارڈنگ سب کچھ اس پر محفوظ کیا جا سکے گا اور اس تک بعد میں رسائی ممکن ہو گی۔

یاد رہے کہ اس وجہ سے کاپی رائٹ یا جملہ حقوق کا اہم مسئلہ کھڑا ہوتا ہے کہ صارفین کا محفوظ کیا ہوا مواد کہیں غلط ہاتھوں میں پہنچ کر استعمال تو نہیں کیا جا تا ہے۔

"انسکرپشن کم ڈاٹ کی حفاظت کرتا ہے لیکن دوسری جانب صارف کو تحفظ نہیں فراہم کرتا ہے۔ جب تک آپ فرانس یا کوریا میں نا رہتے ہوں اس وقت تک ایسا تو ہے نہیں کہ آپ کاپی رائٹ والی مواد ڈاؤن لوڈ کریں تو آپ کے دروزہ پر کوئی دستک دے۔"

اینڈریو اورلسکی

سائبر یا انرنیٹ ٹیکنالوجی اور اس سے متعلق مسائل کے ماہر اینڈریو اورلوسکی کہتے ہیں’انکرپشن ڈیٹا کی حفاظت تو کرتا ہے لیکن دوسری جانب صارفین کو تحفظ فراہم نہیں کرتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’جب تک آپ فرانس یا کوریا میں نہ رہتے ہوں اس وقت تک ایسا تو نہیں ہے کہ آپ کاپی رائٹ والا مواد ڈاؤن لوڈ کریں تو آپ کے دروازے پر کوئی دستک دے۔‘

ماہرین کے مطابق پائریسی کئی صنعتوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایڈوب کمپنی میں پائریسی کے معاملات دیکھنے والے شعبے کے سربراہ رچرڈ اٹکنسن کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس فوٹو ایڈنٹگ سے متعلق سافٹ ویئر کے تقریبا سوا پانچ کروڑ غیر قانونی ایکٹیویشن یا استعمال کے لیے استعمال کیے گئے۔

پائریسی سے سب سے زیادہ متاثر فلمی صنعت ہوتی ہے۔ امریکی پالیسی انوویشن نامی ادارے نے اس سلسلے میں جو رپورٹ تیار کی ہے اس کے مطابق ہالی وڈ کو پائریسی کے سبب ایک برس میں تقریبا ساڑھے بیس ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

پائریسی کے پتہ کرنے میں ایک مشکل کام ہر ڈاؤن کی گئی چیز پر نظر رکھنا ہے۔ میگا کا کہنا ہے کہ جس دن ویب سائٹ لانچ ہوئی اس کے پہلے ہی روز دس لاکھ لوگوں نے ویب سائٹ کا استعمال کیا۔

تو ہر مواد پر نظر رکھنا ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے اس لیے اس پر روک لگانا ایک مشکل کام ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ میگا ویب سائٹ پر سب کی نظر ہے اس لیے اس پر توجہ دی جاتی ہے لیکن اس طرح کی اور بہت سی ویب سائٹس ہیں جو غیر قانونی طور پر فلموں کا مواد پیش کرتی ہیں۔

ویب سائٹ سکیورٹی کے ماہرین کی ایک بڑی تعداد اب اس بات کی قائل ہے کہ ویب سائٹوں پر پائریسی کو پوری طرح روکنا تقریبا نا ممکن ہے۔

اخبار نیو یارک ٹائمز کے صحافی نک بلٹن نے لکھا ہے ’آن لائن پائریسی کو روکنا دنیا کے سب سے بڑے ’وہیک اے مول‘ (کیسے ایک چوہے کو ماریں) کھیل کے کھیلنے کے بربر ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔