’کمپنیوں پر سائیبر حملے کی اطلاع دینی لازم‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 12:30 GMT 17:30 PST

یورپی یونین کے نئے قوانین کے تحت چالیس ہزار سے زیادہ کمپنیوں کو ان کی ویب سائٹس پر ہونے والے حملوں کی اطلاع دینی لازمی ہے۔

یورپی یونین کے نئے قوانین کا اطلاق سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے کیا گیا ہے جن کمپنیوں میں توانائی کی کمپنیاں، بینک اور ہسپتال بھی شامل ہیں۔

ڈیجیٹل ایجنڈا کمشنر کا کہنا ہے کہ یورپ کے لیے ضروری ہے کہ وہ سائبر سکیورٹی کو مزید بہتر بنائے۔

تاہم کمپنیوں کا کہنا ہے کہ سائبر حملوں کی اطلاع دینا ان کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گی۔

یورپی یونین چاہتی ہے کہ تمام ممبر ممالک سائبر حملوں کی معلومات شیئر کریں اور سائبر حملوں کے خلاف دفاع کو بہتر بنایا جائے۔

تجویز کے مطابق ہر ممبر ملک کو کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم مقرر کی جائے اور ایک اتھارٹی قائم کی جائے جہاں کمپنیاں سائبر حملوں کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔

اس اتھارٹی کے اختیار میں ہو گا کہ فیصلہ کرے کہ آیا ان کمپنیوں پر حملوں کی معلومات کو منظرِ عام پر لائی جائیں یا پھر کمپنیوں پر جرمانہ عائد کیا جائے۔

ان نئے قوانین کے اطلاق کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے ڈیجیٹل ایجنڈا کمشنر نے کہا ’یورپ کو محفوظ نیٹ ورک اور نظام کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو صارفین، کاروبار اور معاشرے کو بہت نقصان ہو گا۔‘

یورپی یونین کے مطابق ایک چوتھائی کمپنیاں اپنی انٹرنیٹ سکیورٹی پالیسی کی باقاعدگی سے نظر ثانی کرتی ہیں۔

چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کمپنی پی ڈبلیو سی کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں تین چوتھائی چھوٹے کاروبار اور 93 فیصد بڑی کمپنیوں پر سائبر حملے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔