جڑواں بھائیوں میں مجرم کون؟

آخری وقت اشاعت:  پير 11 فروری 2013 ,‭ 20:57 GMT 01:57 PST

ان جڑواں بھائیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ستمبر دو ہزار بارہ اور جنوری دو ہزار تیرہ کے درمیان بائیس سال سے چھہتر سال کی عمر کی چھ خواتین پر جنسی حملے کیے ہیں

فرانس کے شہر مارسیلز کی پولیس جنسی تشدد کے واقعات میں مبینہ طور ملوث دو بالکل مماثلت رکھنے والے جڑواں بھائیوں کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس جو شہر میں کئی جنسی تشدد کی وارداتوں کی تحقیقات کر رہی ہے نے دو ہوبہو مماثلت رکھنے والے جڑواں بھائیوں کو گرفتار کیا مگر اب پولیس کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ ان دونوں ملتے جلتے جڑواں بھائیوں میں سے کون اصل ملزم ہے۔

یہ دو جڑواں بھائی مقامی طور پر ایلون اور یوہان کے نام سے جانے جاتے ہیں جو ڈیلوری ڈرائیور کے طور پر کام کرتے ہیں۔

ان دونوں بھائیوں کو جمعے کے روز تحقیقات میں شامل کیا گیا تھا۔

پولیس افسران کا کہنا ہے کہ انہیں یہ تو پتہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے مگر اب سمجھ نہیں آ رہی کہ ان دونوں بھائیوں میں سے کس نے یہ وارداتیں کی ہیں۔

اس پر معاملات اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں جب عام ڈی این اے کے ٹیسٹ اس گُتھی کو سلجھانے سے قاصر نظر آتے ہیں۔

ستمبر دو ہزار بارہ اور جنوری دو ہزار تیرہ کے درمیان ایک ہی طرح کے چھ ملتے جلتے جنسی حملے ہوئے تھے جن کا شکار بائیس سال سے چھہتر سال کی عمر کی خواتین تھیں۔

دونوں مماثلت رکھنے والے جڑواں بھائیوں کا ڈی این بہت حد تک مماثلت رکھتا ہے

پولیس کو ان کی تحقیقات میں ایک بس پر لگے کیمروں سے مدد ملی جس کے نتیجے میں انہوں نے جڑواں بھائیوں کو گرفتار کیا۔

ان حملوں کا شکار ہونے والی ایک خاتون نے ان بھائیوں کو پہچان بھی لیا مگر وہ یہ نہیں بتا سکتیں کہ ان میں کس نے ان پر حملہ کیا تھا۔

پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار ہیو شیفیلڈ کا کہنا ہے کہ تحقیق کاروں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں یہ پتہ نہیں چل رہا کہ حملہ کرنے والا ان دونوں میں سے کون ہے یا پھر یہ کہ دونوں بھائی ہی یہ حملے کرتے رہے ہیں۔

ان حملہ آوروں یا ان میں سے ایک کے ڈی این اے کے نمونے حملوں کا شکار ہونے والی خواتین سے ملے ہیں مگر ان سے کوئی خاص مدد نہیں ملی کیونکہ دونوں مماثلت رکھنے جڑواں بھائیوں کا ڈی این بھی بہت حد تک مماثلت رکھتا ہے۔

پولیس کو بتایا گیا ہے کہ اگر وہ ان دونوں کے ڈی این اے کا ایک بہت ہی اعلیٰ درجے کا پیچیدہ جینیاتی تجزیہ کروائیں تو اس پر دس لاکھ یورو تک خرچہ آ سکتا ہے جس ک نتیجے میں ان دونوں بھائیوں میں فرق پتا چل سکے گا اور اصل مجرم کا تعین ہو سکے گا۔

ایک ماہر نے فرانسیسی اخبار ’لا پرووینس‘ کو بتایا ایک عام ڈی این کے تجزیے کے لیے ہم چار سو کے قریب نیوکلیوٹائیڈز کے جوڑوں کا تجزیہ کرتے ہیں اور ان میں فرق پتہ کرتے ہیں جبکہ اگر یہ معاملہ ہو ملتے جلتے جڑواں بھائیوں کا تو اس صورت میں ہمیں کروڑوں جوڑوں کا تجزیہ کرنا پڑے گا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔