الو کی نئی نسل دریافت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 فروری 2013 ,‭ 07:30 GMT 12:30 PST

الو کی اس نئی نسل کو دو سائنس دانوں نے الگ الگ طور پر دریافت کیا

انڈونیشا میں الو کی ایک نئی نسل کو سائنس دانوں نے اب باقاعدہ طور پر بیان کیا ہے۔ اس نسل کو 2003 میں دو مختلف سائنس دانوں نے الگ الگ دریافت کیا تھا۔

سائنس دانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے اس نسل کا مطالعہ کیا ہے جو پی ایل او ایس نامی سائنسی جریدے میں شائع ہوا ہے۔

سویڈن کی سٹاک ہوم یونیورسٹی کی جارج سینگسٹر اس تحقیق کے سربراہ ہیں۔ انھوں نے اس نسل کے ساتھ اپنے پہلے تعامل کا ذکر کرتے ہوئے کہا:

’میں نے اس نئے الو کو تین ستمبر 2003 کے دن دریافت کیا، جب کہ بین کنگ نے اسے ایک اور جگہ پر سات ستمبر 2003 کو دیکھا۔‘

انھوں نے مزید کہا، ’میں لومبوک جزیرے پر نائٹ جار نامی پرندے کی ایک مقامی نسل کی آوازوں کا نمونہ حاصل کرنے گیا تھا، جب میں نے ایک ایسے الو کی آواز سنی جس سے میں واقف نہیں تھا۔‘

اسی دوران اتفاق سے امریکہ کے شہر نیویارک میں واقع میوزم آف نیچرل ہسٹری کے بین کنگ بھی لومبوک میں موجود تھے۔

انھوں نے کہا، ’میرا تجربہ بھی جارج سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھا۔ میں بھی نائٹ جار کی آوازیں ٹیپ کر رہا تھا کہ میں نے ایک ایسی آواز سنی جو الو کی آواز سے مشابہ تھی، لیکن یہ آواز میں نے انڈونیشیا میں اس سے قبل برسوں کام کرنے کے دوران کبھی نہیں سنی تھی۔‘

الو اپنے علاقے کی رکھوالی کرنے والا پرندہ ہے۔ جب سائنس دانوں نے الو کی آواز کی ریکارڈنگ چلائی تو الو ان آوازوں کے ماخذ کا سراغ لگانے کے لیے ان تک آ پہنچے۔

"میں لومبوک جزیرے پر نائٹ جار نامی پرندے کی ایک مقامی نسل کی آوازوں کا نمونہ حاصل کرنے گیا تھا، جب میں نے ایک ایسے الو کی آواز سنی جس سے میں واقف نہیں تھا۔"

سائنس دان جارج سینگسٹر

اس نئے الو کا نام رنجانی سکوپس رکھا گیا ہے۔ اس کی شکل لومبوک پر پائے جانے والے ایک اور الو سے ملتی ہے، تاہم ان کی آوازیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔

اس کے بعد ان سائنس دانوں نے جب الو کی نسل بندی کے بارے میں موجود لٹریچر کا جائزہ لیا تو انھیں اندازہ ہوا کہ انھوں نے الو کی ایک نئی نسل دریافت کر لی ہے۔

اس دوران سائنس دانوں نے مختلف عجائب گھروں میں رکھے الوؤں کے نمونوں میں ان کے بالوں کا جائزہ لیا، ان کے جسموں کے مختلف حصوں کی پیمائش کی اور ان کے گیتوں کا تجزیہ کیا۔

اس کے علاوہ ڈی این اے تجزیے سے بھی مدد لی گئی۔

سینگسٹر کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا میں پرندوں کی کئی اور نادریافت نسلیں بھی موجود ہو سکتی ہیں۔

’بہت سی نسلیں ایسی بھی ہیں جن کا سائنسی لٹریچر میں تو تذکرہ موجود ہے، لیکن اب تک ان کا باضابطہ جائزہ نہیں لیا گیا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔