انسانی دماغ کی پیچیدہ وائرنگ

آخری وقت اشاعت:  پير 18 فروری 2013 ,‭ 04:05 GMT 09:05 PST
انسانی دماغ کی میپنگ

بی بی سی کے نمائندے پلب گھوش کے دماغ کی وائرنگ کا نقشہ

امریکہ میں سائنسدان انسانی دماغ کے پہلے نقشے کے اعداد شمار ریلیز کرنے کے لیے تیار ہیں جسے پیچیدہ رنگ برنگ وائرنگ کی شکل میں دیکھا جا سکتاہے۔

یہ ایک امریکی پراجکٹ ’ہیومن کنکٹوم پراجیکٹ‘ (Human Connectome Project) کا حصہ ہے جس کے تحت انسانی دماغ کا پہلا نقشہ تیار کیا جانا ہے۔ اس تحقیق سے اس بات کو جاننے میں مدد مل سکے گی کہ آخر کوئی شخص فطری طور پر سائنس یا موسیقی یا پھر فنونِ لطیفہ کی جانب کیوں مائل ہوتا ہے۔

اس تحقیق کی کچھ تصاویر کی رونمائی امریکی تنظیم برائے سائنسی ترقی کی بوسٹن میں ہونے والی میٹنگ کے دوران کی گئی۔

بی بی سی کے پلّب گھوش نے کہا کہ انھوں نے یہ جاننے کے لیے اپنے دماغ کی سکیننگ کروائی کہ سائنسداں کس طرح سے دماغ کی تصویر کشی کی جدید تکنیک کو فروغ دے رہے ہیں۔

میساچوسٹس جنرل ہسپتال میں سائنسدان دماغ کی سکیننگ کے لیے تیار سکینر کو اس کی آخری حد تک استعمال کر رہے ہیں۔ یہ دنیا کے سب سے طاقتور سکینروں میں سے ایک ہے۔

اس سکینر کے مقناطیس کو کام کرنے کے لیے بائیس میگاواٹ بجلی درکار ہے جو کسی جوہری آبدوز کو چلانے کے لیے کافی ہے۔

انھوں نے پلّب کا 45 منٹ تک جاری رہنے وال مکمل سکین کیا جو کہ ابھی تک دنیا میں صرف پچاس لوگو ں کا کیا گیا ہے۔

"گزشتہ سو سال کے دوران ذہنی امراض کے متعلق ہمارے طریقئہ علاج میں کوئی خاطر خواہ تبدیل نہیں آسکی ہے۔ ہمارے پاس اس کی تصویر کشی کا کوئی طریقہ نہیں ہے جیسا کہ ہم دل کے جانچ کے متعلق رکھتے ہیں"

انھوں نے کہا: 'میں جب تک سکینر میں لپٹا تھا دوسرے کمرے میں سائنسداں میرے دماغ کے جوڑوں اور تاروں کا نظارہ کر رہے تھے۔

اس سکیننگ کا نتیجہ تھری ڈی میں سامنے آیا جس میں صاف رنگوں میں ان کے دماغ کے راستے نظر آ رہے تھے۔ محقق ڈاکٹر وان ویڈین نے انھیں اس کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

انھوں نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ کونسا جوڑ انہیں دیکھنے میں مدد کرتا ہے اور کون سا بات کے سمجھنے میں۔ اس میں قوس کی شکل کی جڑواں چھتری کے ساتھ ایک گرہ نظر آرہی تھی جو ڈاکٹر وان کے مطابق ہمارے نمائندے کے بائیں اور دائیں دماغ کو جوڑ رہی تھی اور ایک جڑواں قوس کی شکل کی چھتری سے ہوکر جذبات گزرتے تھے۔

اس تحقیق کے ذریعہ ڈاکٹر وین ویڈین اور ان کے ساتھی اس بات کی امید رکھتے ہیں کہ اس سے انھیں دماغ کے کام کرنے اور خراب ہو جانے کا علم ہو سکے گا۔

انھوں نے کہا: ’گزشتہ سو سال کے دوران ذہنی امراض کے متعلق ہمارے طریقۂ علاج میں کوئی خاطر خواہ تبدیل نہیں آ سکی ہے۔ ہمارے پاس اس کی تصویر کشی کا کوئی طریقہ نہیں ہے جیسا کہ ہم دل کی جانچ کے متعلق رکھتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ بات بڑی دلچسپ ہو گی کہ ہم دماغ کے اندر پہنچیں اور دیکھیں اور لوگوں کو بتائیں کہ ان کی پریشانی کیا ہے۔‘

یہ پراجکٹ پانچ سال پر محیط ہے اور اسے نیشنل ہلتھ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔

اس منصوبے کے تحت بارہ سو امریکیوں کے دماغ کی میپنگ ہوگی تاکہ انسان دماغ کی تمام نیورو وائرنگ کا نقشہ تیار ہو جائے۔

اس کے علاوہ تحقیق کرنے والے ان لوگوں کے جینیاتی اور برتاؤ کے اعدادوشمار کوبھی محفوظ کریں گے جن کے دماغ کی سکیننگ ہو رہی ہے تاکہ اس بات کو پوری طرح سے سمجھا جا سکے کہ انسانی ذہن کس طرح کام کرتا ہے ۔

دماغ کی وائرنگ کا نقشہ جامد نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک تجربے کے بعد اس میں تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے، شاید اسی لیے ہر ایک شخص کے دماغ کا نقشہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔

آکسفرڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ٹم بہرنس کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے بعد ہم اس بات کی تصدیق کر سکیں گے کہ ہر دماغ جدا ہوتا ہے جیسے کہ ہر کنکشن۔

انھوں نے کہا کہ ’اس سے ہمیں انسانی برتاؤ اور رویے کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔