ہیتھرو کے لیے مصروف ترین سال

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 فروری 2013 ,‭ 22:56 GMT 03:56 PST

ہیتھرو برطانیہ کا سب سے مصروف ہوائی اڈہ ہے

برطانیہ کے سب سےمصروف ہوائی اڈے ہیتھرو کے لیے گزشتہ سال سب سے مصروف ترین سال تھا جب ستر ملین افراد نے ہوائی اڈے کو استعمال کیا جس کے نتیجے میں ہوائی اڈے کی آمدنی آٹھ فیصد اضافے کے ساتھ دو اعشاریہ چھیالیس بلین ہو گئی۔

ہیتھرو جو برطانیہ کا سب سے مصروف ہوائی اڈہ بھی ہے اس وقت اپنی گنجائش کی آخری حد کے قریب تک کام کر رہا ہے جو دو ہزار بارہ میں چار لاکھ اکہتر ہزار تین سو اکتالیس پروازیں تھی جو اس کی قانونی حد چار لاکھ اسی ہزار سے کچھ کم ہے۔

اولمپکس کے دوران مسافروں کی تعداد میں چار لاکھ مسافروں کی کمی واقع ہوئی کیونکہ برطانوی شہریوں نے گھروں میں بیٹھ کر کھیلوں کو دیکھنے کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے اندرونی پروازیں متاثر ہوئیں۔

ہیتھرو کے منتظمِ اعلی نے ایک مرتبہ پھر گنجائش کی کمی کا شکوہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے۔

کولن میتھیوز نے کہا کہ ہوائی اڈے کے لیے نئی گنجائش کی بہت اشد ضرورت ہے اور اسے ہنگامی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیے کیونکہ یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے ہوائی اڈوں کی جانب سے مقابلہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔

سوموار کو شائع کیے گئے ان نتائج میں لندن کے سٹین سٹیڈ ہوائی اڈے کو بھی شامل کیا گیا جسے مانچسٹر ہوائی اڈے کی انتظامیہ کی کمپنی کو ڈیڑھ ارب ڈالر میں فروخت کیا گیا تھا۔

سٹین سٹیڈ ہوائی اڈے نے مسافروں کی تعداد میں کمی دیکھی جو کہ دو ہزار بارہ میں تین اعشاریہ دو فیصد کی کمی کے ساتھ سترہ اعشاریہ پانچ ملین رہی۔

ہیتھرو کی انتظامیہ کمپنی کا کہنا ہے کہ ہیتھرو کے ٹرمنل نمبر دو کی عمارت کی تعمیر سال دو ہزار تیرہ کے اواخر تک مکمل ہوجائے گی جسے دو ہزار چودہ کے درمیان تک مسافروں کی سہولت کے لیے کھول دیا جائے گا۔

اس منصوبے پر خرچ ہونے والی رقم اس ایک ارب سے زیادہ کی رقم کا حصہ تھی جسے ہوائی اڈے پر دو ہزار بارہ میں خرچ رنے کے منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔