’بحرِہند کی تہہ میں قدیم براعظم کی باقیات‘

آخری وقت اشاعت:  پير 25 فروری 2013 ,‭ 01:45 GMT 06:45 PST

ایک تحقیق کے مطابق بحرِ ہند کی تہہ میں ایک قدیم براعظم کی باقیات دفن ہیں۔

محققین کو زمین کے ایسے ٹکڑوں کے بارے میں ثبوت ملے ہیں جو پچاسی سے دو ہزار ملین سال قبل پائے جاتے تھے۔

نیچر جیو سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ ٹکڑا جیسے سائنسدانوں نے موریشیا کا نام دیا ہے جدید دنیا کی تشکیل کے وقت ٹوٹ کر پانی میں ڈوب گیا تھا۔

ساڑھے سات سو ملین سال پہلے تک دنیا میں ایک ہی بڑا براعظم تھا جسے روڈینیا کہا جاتا تھا اور جہاں اب ان دونوں کے درمیان ہزاروں میل طویل سمندر ہے، اس زمانے میں بھارت مڈغاسکر کے قریب واقع تھا۔

جب زمین نے اپنی موجودہ شکل اختیار کرنا شروع کی تو موریشیا کا وجود ختم ہوگیا تھا۔

اب محققین کا خیال ہے کہ انہوں نے اس چھوٹے براعظم کا ایک ٹکڑا دریافت کیا ہے۔ تحقیقی ٹیم نے یہ نتیجہ ماریشیئس کے جزیرے کے ساحلوں پر موجود ریت کے ذرات کے تجزیے کے بعد نکالا ہے۔

جہاں یہ ذرات نوے لاکھ سال قبل ہونے والی آتش فشانی کے زمانے کے تھے وہیں ان میں ایسی معدنیات کے اثرات بھی تھے جو اس زمانے سے کہیں پرانی تھیں۔

ناروے کی یونیورسٹی آف اوسلو کے پروفیسر ٹرونڈ ٹروسک کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ساحلی ریت سے زرکون ملے اور یہ وہ چیز ہے کہ جو کسی براعظم کی پرت میں پائی جاتی ہے اور یہ انتہائی قدیم ہیں۔‘

ان کے مطابق یہ زرکون انیس سو ستّر سے چھ سو ملین برس قدیم ہیں اور محققین کی ٹیم اس نتیجے پر پہنچی کہ یہ زمین کے کسی قدیم ٹکڑے کی باقیات ہیں جو کہ آتش فشانی کے عمل کے دوران ٹوٹ کر الگ ہوگیا تھا۔

تحقیقی ٹیم نے یہ نتیجہ ماریشیئس کے جزیرے کے ساحلوں پر موجود ریت کے ذرات کے تجزیے کے بعد نکالا

پروفیسر ٹروسک کے مطابق ان کے خیال میں موریشیا کے ٹکڑے ماریشیئس کے نیچے بحرِ ہند میں دس کلومیٹر کی گہرائی میں مل سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹکڑا لاکھوں سال کی تاریخ کا امین ہو سکتا ہے اور ممکن ہے کہ اس کا تعلق اس دور سے ہو جب ڈائنوسار زمین پر پائے جاتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پچاسی ملین سال پہلے جب بھارت مڈغاسکر سے الگ ہونا شروع ہوا اور اس نے اپنے موجودہ مقام کی جانب حرکت کی تو یہ چھوٹا براعظم ٹوٹ کر سمندر برد ہوگیا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت سیشلز کے جزائر درحقیقت گرینائٹ کا ایک ٹکڑا ہیں جو بحرِ ہند کے بیچوں بیچ موجود ہے لیکن ایک وقت تھا کہ جب یہ مڈغاسکر کے شمال میں تھا اور جو ہم کہہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اس وقت شاید یہ بہت بڑا تھا اور شاید اس کے ٹکڑے سمندر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

پروفیسر ٹروسک کے مطابق ابھی اس بارے میں مزید تحقیق ضروری ہے کہ سمندر کی تہہ میں کیا باقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں سیسمک ڈیٹا چاہیے تاکہ ہم اس ٹکڑے کی شکل بنا سکیں۔ یہ حتمی ثبوت ہوگا یا پھر ہم گہری کھدائی کر سکتے ہیں لیکن اس پر بہت لاگت آئے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔