بچے ماں کے پیٹ میں ہی الفاظ کی اکائیاں سمجھنے لگتے ہیں

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 28 فروری 2013 ,‭ 12:42 GMT 17:42 PST
کان

بچے ماں کے پیٹ ہی میں آوازوں کا سطح اور تال سمجھنے لگ جاتے ہیں

سائنسدانوں نے کہا ہے کہ بچے پیدائش سے تین ماہ قبل ہی الفاظ کی صوتی اکائیاں سمجھنے لگ جاتے ہیں۔

یہ شواہد قبل از وقت پیدا ہونے والے بارہ بچوں کے دماغ کے سکین سے ملے ہیں۔

حمل کے اٹھائیسویں ہفتے ہی بچے ’گا‘ اور ’با‘ جیسی اکائیوں اور مرد اور عورتوں کی آوازوں میں میں فرق کو سمجھنے لگتے ہیں۔

نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع کی گئی ایک تحقیق میں فرانسیسی تحقیق کاروں کی ایک ٹیم نے لکھا ہے کہ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ بچہ دانی سے باہر بچوں پر کیے گئے تجربے کے نتائج مختلف ہوتے۔

یہ تحقیق اس خیال کو تقویت دیتی ہے کہ ماں کے پیٹ میں ہی بچے اپنے والدین کی آوازیں سن کر زبان کے متعلق سیکھتے ہیں۔

اس تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی عوامل بھی بلاشبہ اہم ہیں، لیکن ان کے نتائج کی بنیاد پر ان کا خیال ہے کہ لسانی عمل قدرتی ہے۔

ڈاکٹر فیبریس ویلوئس اور ان کے رفقاء کہتے ہیں کہ ان کے نتائج بتاتے ہیں کہ انسانی دماغ پہلے ہی الفاظ کی صوتی اکائیوں میں فرق بتاتا ہے۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کو چیلنج نہیں کرتا کہ تجربہ مقامی زبان کی مخصوص خصوصیات سیکھنے اور اسے درست کرنے میں کردار ادا نہیں کرتا۔

دماغ کے سکین کا یہ مطالعہ بچے کی پیدائش کے کچھ دنوں بعد کیا گیا، اس لیے یہ ممکن ہے کہ نومولود بچے نے پیٹ سے باہر نئے ماحول میں آوازوں سے تیزی سے سیکھا ہو۔ تاہم محققین کو اس بارے میں شبہات ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر سوفی سکاٹ کہتے ہیں کہ نتائج نے موجودہ علم کو تقویت بخشی ہے۔

’ہم جانتے ہیں کہ بچے پیٹ میں ہی اپنی ماں کی آواز سن لیتے ہیں اور آواز کی سطح اور تال محسوس کر سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔