مریخ کی جانب انسانی مشن بھیجنے کا منصوبہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 28 فروری 2013 ,‭ 22:36 GMT 03:36 PST

یہ مشن مریخ کی سطح پر اترے گا نہیں بلکہ سیارے سے سو میل کے فاصلے پر پرواز کرے گا

امریکہ کی کروڑپتی شخصیت اور دنیا کے پہلے خلائی سیاح ڈینس ٹیٹو اور ان کے ساتھیوں نے 2018 میں مریخ کی جانب ایسا خلائی مشن روانہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس پر ایک ادھیڑ عمر انسانی جوڑا سوار ہوگا۔

’انسپریشنل مارز فاؤنڈیشن‘نے 2018 میں مریخ کی جانب ایک انسانی مشن بھیجنے کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سال مریخ زمین کے سب سے زیادہ قریب آئے گا تاہم اس کے باوجود اس سفر میں پانچ سو دن کا وقت لگے گا۔

یہ مشن مریخ کی سطح پر اترے گا نہیں بلکہ سیارے سے سو میل کے فاصلے پر پرواز کرے گا اور پھر اس کی کششِ ثقل کو استعمال کرتے ہوئے زمین پر واپس آئے گا۔

اس مشن کے لیے ٹیٹو اور ان کی ٹیم ’انسپریشنل مارز فاؤنڈیشن‘ کو ایک ’ادھیڑ عمر جوڑے‘ کی تلاش ہے جو تنہائی کے اُس دور میں ایک دوسرے کا ساتھ دے سکیں۔

اس ٹیم کی ایک رکن جین پوائنٹر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفر کے لیے ادھیڑعمر افراد کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ ان کی صحت اس تابکاری سے سب سے کم متاثر ہو گی جس کا اس طویل خلائی سفر میں انہیں سامنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جن افراد کو اس مشن کے لیے منتخب کیا جائے گا انہیں مکمل تربیت فراہم کی جائے گی اور وہ دورانِ سفر مشن کنٹرول بھی نفسیاتی طور پر ان کا ساتھ نبھائے گا۔

جین پوائنٹر نے امید ظاہر کی ہے کہ ایک انسانی جوڑے کا مریخ کی جانب سفر دنیا کے لیے ’تخلیقی محرک‘ ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ اس سفر پر جانے والے انسانیت کی نمائندگی کریں اور ان میں دنیا کے جوانوں کی جھلک دکھائی دے اور وہ لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے رول ماڈل ثابت ہوں۔‘

"اگر ایک دو ارب پتی شخصیات مشن کے لیے درکار ایک سے دو ارب ڈالر فراہم کرتی ہیں تو ہم پانچ سال سے کم عرصے میں تاریخ بنتی دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم اگر وہ پریس کانفرنس میں یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس یہ شاندار خیال ہے جس کے لیے ہمیں رقم درکار ہے اور برائے مہربانی دل کھول پر مدد کریں تو پھر اس منصوبے میں کوئی جان نہیں ہے۔"

انو اوجھا

لنکن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے خلائی مورخ پروفیسر کرسٹوفر رائلی کے خیال میں مریخ کی جانب ایک ادھیڑ عمر جوڑے کو بھیجنا ایک اچھا خیال ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’طویل دورانیے کے خلائی سفر پر زیادہ عمر کے والدین بن چکے خلابازوں کو بھیجنے کی بات خاصے عرصے سے گردش میں ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے زمین کے حفاظتی مقناطیسی ماحول سے اتنا عرصہ باہر رہنا انہیں بانجھ بھی بنا سکتا ہے۔‘

تاہم حال ہی میں مریخ کی جانب فرضی انسانی مشن بھیجنے کے تجربے مارز 500 پروجیکٹ کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ انتہائی احتیاط سے چنے گئے افراد بھی طویل خلائی سفر کے دوران نفسیاتی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔

چونکہ اس مشن کو مریخ پر اتارنے کا ارادہ نہیں، اس لیے اس پر آنے والی لاگت کہیں کم ہوگی اور ’مارز انسپریشن ٹیم‘ کے خیال میں تکنیکی طور پر اس سفر کا آغاز پانچ برس میں ممکن ہے۔

لیسٹر میں قائم برٹش نیشنل سپیس سنٹر کے انو اوجھا کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنی سپیس ایکس کے تیارہ کردہ ڈریگن اور فالکن خلائی جہازوں کو استعمال کرتے ہوئے مریخ تک کا سفر اور واپسی ممکن ہے۔

مریخ کی جانب جانے والے انسانی مشن پر آنے والی لاگت کا صحیح تخمینہ تاحال پیش نہیں کیا گیا ہے تاہم کروڑپتی امریکی ڈینس ٹیٹو نے اس مشن کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تاہم انو اوجھا کا کہنا ہے کہ جب تک مشن کے لیے درکار تمام رقم میسر نہیں ہو جاتی اس پر عملاً کام مشکل ہے۔

بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’اگر ایک دو ارب پتی شخصیات مشن کے لیے درکار ایک سے دو ارب ڈالر فراہم کرتی ہیں تو ہم پانچ سال سے کم عرصے میں تاریخ بنتی دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم اگر وہ پریس کانفرنس میں یہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس یہ شاندار خیال ہے جس کے لیے ہمیں رقم درکار ہے اور برائے مہربانی دل کھول پر مدد کریں تو پھر اس منصوبے میں کوئی جان نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔