ایپل کو دیے جانے والے ہرجانے میں کٹوتی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 2 مارچ 2013 ,‭ 01:04 GMT 06:04 PST

ایپل نے پیٹنٹ کے کیس میں کہا تھا کہ سام سنگ نے ان کے چودہ مصنوعات کے پیٹنٹ ڈیزائن استعمال کیے تھے

امریکہ میں ایک جج نے سام سنگ کی طرف سے ایپل کو ادا کیے جانے والے ہرجانے کے رقم ایک بیلین امریکی ڈالر میں چالیس فیصد کٹوتی کا حکم دیا ہے۔

جج نے ایپل کے نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے نئے مقدمے کا اعلان بھی کیا ہے۔

کلیفورنیا کی عدالت کے اس حکم کے تحت ایپل اور سام سنگ کے درمیان دوبارہ مقدمہ ہو گا۔

جج نے مزید کہا کہ گزشتہ فیصلے میں جیوری نے ایپل کے لیے ایک بیلین امریکی ڈالر کے ہرجانے کے حساب کتاب لگانے میں غلطی کی تھی۔

واضح رہے کہ 450.5 ملین امریکی ڈالر کم کرنے کی رقم کی دوبارہ جانچ پڑتال ہوگی اور اس رقم کو کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے۔

گزشتہ برس اس مقدمہ کے دوران ایپل نے جیوری کو مطمئن کیا تھا کہ سام سنگ نے ان کے آئی فون اور آئی پیڈ کے پیٹنٹ کی خلاف ورزی کی تھی۔

ایپل نے پیٹنٹ کے کیس میں کہا تھا کہ سام سنگ نے ان کے چودہ مصنوعات کے پیٹنٹ ڈیزائن استعمال کیے تھے۔

جیوری نے سام سنگ کو اپنی بعض مصنوعات میں غیر قانونی طور پر ایپل کے فیچر استعمال کرنے کا مرتکب پایا، جیسا کہ ’باونس بیک فیچر‘۔

یاد رہے کہ دونوں کمپنیوں کے مابین آٹھ دوسرے ممالک کے عدالتوں میں بھی مقدمات ہیں۔ ان ممالک میں سام سانگ کمپنی کا اپنا ملک جنوبی کوریا، جرمنی، جاپان، برطانیہ اور آسٹریلیا شامل ہیں۔

سام سنگ اور ایپل کے درمیان سمارٹ فون مارکیٹ کے لیے عدالتی لڑائی جاری ہے جسے اس وقت سام سنگ جیت رہا ہے۔

گزشتہ برس سام سنگ ایپل کو پیچھے چھوڑ کر سمارٹ فون بھیچنے والی دنیا میں سب بڑی کمپنی بن گئی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔