’میں تمہیں پسند نہیں کرتی‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 5 مارچ 2013 ,‭ 19:13 GMT 00:13 PST
بدمانس

مادہ بد مانس دوسری مادہ بد مانسوں کے طرف جاریحانہ رویہ رکھتی ہیں

ایک تحقیق کے مطابق مادہ بن مانس جب دوسری مادہ بن مانسوں سے رابطوں کا اظہار کرتی ہہ تو ان کا رویہ زیادہ تر منفی ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں چیسٹر کے چڑیاگھر میں مادہ بن مانسوں کے ایک گروہ کی طرف سے کیے جانے والے اشاروں کا تجزیہ کیا گیا۔

جب مادہ آپس میں رابطہ کرتی ہیں تو ان کے اشارے زیادہ جارحانہ ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کیے گئے ’معافی‘ کے اشارے کم ہوتے ہیں۔

لیکن نر بن مانسوں کی طرف ان کا رویہ مثبت ہوتا ہے جس میں خیر سگالی اور اطاعت کا اظہار زیادہ ہوتا ہے۔

امریکہ میں قائم یونیورسٹی آف مینیسوٹا، منیاپولس کے پی ایچ ڈی کی طالب علم نکول سکاٹ کہتی ہیں کہ جب مادہ بن مانس نر بن مانسوں سے رابطہ کرتی ہیں تو وہ ایک طرح سے ان کی چاپلوسی کرتی ہیں۔ ان کی یہ تحقیق ’دی امیریکن جرنل آف پرائماٹولوجی‘ میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیق کے دوران نکول سکاٹ نے برطانیہ کے چیسٹر کے چڑیاگھر میں بن مانسوں کے ایک گروہ میں موجود سترہ مادہ اور پانچ نر بن مانسوں کے رویے کی ویڈیو ریکارڈ کی۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے اشاروں کی تشریح اعضاء کی حرکت کے اظہار یا سر اور جسم کے اشارے جو جان بوجھ کر کیے جائیں کے طور پر کی ہے۔‘

مجموعی طور پر نر اور مادہ رویوں کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ جانوروں کے اشاروں کے مخزن میں کوئی اختلافات نہیں۔ لیکن اظہار میں فرق اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب انفرادی رابطوں کا تجزیہ کیا جائے۔

اگرچہ گروہ میں مادہ پارٹنر کی جنس کی بنیاد پر مختلف حکمتِ عملی اختیار کرتی ہے لیکن نر ایسا نہیں کرتے۔

نکول سکاٹ کا کہنا ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مادہ بد مانس پارٹنر کی جنس کے متعلق نر سےزیادہ حساس ہوتی ہیں، اور اشاروں کا استعمال ان کی مطابق کرتی ہیں۔

ماہرِ حیاتیات کے مطابق مختلف ’سماجی دباؤ‘ رابطوں میں حکمت عملی کے فرق کی وضاحت کر سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر ہو سکتا ہے کہ نر بن مانسوں کا دوسرے نر بن مانسوں کے ساتھ تعلق نر۔نر اتحاد کی اہمیت اور اعلیٰ سماجی رتبے کو قائم رکھنے کے لیے زیادہ مثبت ہو۔

لیکن مادہ بن مانسوں کے دوسری مادہ بن مانسوں کے ساتھ زیادہ اور مثبت تعلقات بنانے پر کم توجہ دی جاتی ہو، اور اس لیے ان پر زیادہ دباؤ ہوتا ہے کہ وہ نر بن مانسوں کے ساتھ مثبت تعلقات قائم رکھیں۔

نکول سکاٹ کہتی ہیں کہ بن مانسوں میں پیچیدہ سماجی رویوں کا مطالعہ ہمارے اپنے عوامل کی طرف بھی اشارہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’انتھروپومورفیکلی‘ طور پر اگر بات کریں تو میں اپنی زندگی میں بھی کچھ متوازی رویے دیکھ سکتی ہوں: خواتین عام طور پر دوسری خواتین کی طرف زیادہ جارحانہ رویہ اور مقابلے کا عنصر رکھتی ہیں ۔۔۔ اور مرد سماجی درجہ بندی کے سیاق و سباق کے باہر اپنا رویہ نہیں بدلتے۔

’شاید ہم کو اپنے آباؤ اجداد سے یہ علامات وراثت میں ملی ہیں، وہ علامات جو سماجی دباؤ کی وجہ سے اپنائی گئیں، لیکن میں یہ بحث اینتھرولوجسٹس یا انسانیت دانوں پر چھوڑتی ہوں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔