برطانیہ میں ذیابیطس کے تیس لاکھ مریض

آخری وقت اشاعت:  پير 4 مارچ 2013 ,‭ 12:34 GMT 17:34 PST
ذیابیطس

ذیابیطس میں مبتلا افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے

ذیابیطس پر کام کرنے والے ایک خیراتی ادارے کے مطابق برطانیہ میں تیس لاکھ افراد ذیابیطس میں مبتلا ہیں۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس بڑے نمبر سے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) پر ایک بہت بڑا بوجھ پڑ سکتا ہے۔

ان میں سے زیادہ تر لوگ ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا ہیں جس کی وجہ برطانیہ کی بڑی عمر کے لوگ اور زیادہ وزن اور موٹے لوگوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔

اس کے علاوہ پچاسی ہزار لوگ ایسے بھی ہیں جن کو ٹائپ 2 ذیابیطس ہو سکتی ہے۔ یہ مجموعہ گزشتہ سال سے ایک لاکھ بتیس ہزار زیادہ ہے۔

سنہ انیس سو چھیانوے میں جن لوگوں کو دونوں قسم کی ذیابیطس تھی ان کی تعداد چودہ لاکھ کے قریب تھی۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اب یہ تعداد تیس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں سے تقریباً 90 فیصد کو ٹائپ 2 ذیابیطس ہے۔

ذیابیطس کی قسمیں

  • ٹائپ 1 ذیابیطس: جن لوگوں کو ٹائپ 1 ذیابیطس ہوتی ہے ان کا جسم بالکل انسولین نہیں بنا سکتا۔ کسی کو یہ نہیں پتہ کہ اس کی وجہ کیا ہوتی ہے لیکن موٹاپے کی وجہ سے نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے روکا جا سکتا ہے۔ عام طور پر یہ بچوں اور نوجوان بالغوں کو ہوتی ہے، جو کہ ایک دم شروع ہوتی ہے اور بگڑتی جاتی ہے۔ ٹائپ 1 ذیابیطس کو انسولین، صحت مند خوراک اور ورزش سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔
  • ٹائپ 2 ذیابیطس: جن لوگوں کو ٹائپ 2 ذیابیطس ہوتی ہے ان کا جسم یا تو انسولین کم بناتا ہے یا جو انسولین وہ بناتا ہے وہ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتی۔ ان کو ذیابیطس یا تو والدین کی طرف سے ورثے میں ملتی ہے، یا پھر عمر اور نسل کی وجہ سے۔ اگر ان کا وزن زیادہ ہے تو بھی انہیں یہ ہو سکتی ہے۔ ٹائپ 2 ذیابیطس کو صحت بند خوراک اور زیادہ جسمانی کارروائی سے بھی قابو کیا جا سکتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق سنہ 2025 تک تقریباً پچاس لاکھ افراد ذیابیطس میں مبتلا ہوں گے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ٹائپ 2 ذیابیطس کو روکنے کے لیے کچھ نہ کیا گیا، اور ان افراد کو مزید مدد نہ دی گئی جو اس میں مبتلا ہیں تو اس میں اضافہ کے عوامی صحت پر بڑے بھاری منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

ذیابیطس یو کے نے کہا ہے کہ انگلینڈ اور ویلز میں ہر سال ذیابیطس میں مبتلا چوبیس ہزار افراد کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو صورتِ حال ابتر ہو سکتی ہے۔

ذیابیطس یو کے کی چیف ایگزیکٹو باربرا ینگ نے کہا کہ وہ اس تعداد کی وجہ سے فکر مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں لگتا کہ اس حالت میں کمی ہو گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔