دمدار ستارے کا ہمارے نظام شمسی سے گزر

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 مارچ 2013 ,‭ 23:26 GMT 04:26 PST

زمین کے شمالی نصف کرے میں لوگوں کو پین سٹارز نامی ایک چمکدار دمدار ستارے کا نایاب نظارہ ملے گا۔

یہ دمدار ستارہ آٹھ مارچ کو دور بین کے ذریعے دیکھا جا سکے گا لیکن اس کے بعد کے دنوں میں یہ اتنا زیادہ چمکدار ہو جائے گا کہ یہ بغیر دوربین کے بھی دیکھا جا سکے گا۔

زمین کے جنوبی نصف کرے کے لوگ پہلے ہی یہ نظارہ دیکھ چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ دمدار ستارہ دیگر ستاروں کی مانند چمکدار تھا۔

شمالی آئر لینڈ کی آرمغ آبزرویٹری کے ڈائریکٹر مارک بیلی کا کہنا ہے ’ہمیں اس دمدار ستارے سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ یقیناً ہم ہوشیار ہیں کیونکہ ابھی بھی ہم کو یہ نہیں معلوم کہ یہ دمدار ستارہ کتنا چمکدار ہو گا۔‘

پین سٹارز نامی یہ دمدار ستارہ جون 2011 میں دریافت کیا گیا تھا۔ اس کو ہوائی میں پین سٹارز نامی ٹیلی سکوپ کے ذریعے دریافت کیا گیا تھا اور اسی لیے اس کا نام اسی ٹیلی سکوپ پر رکھا گیا ہے۔

جس وقت اس کو دریافت کیا گیا تھا اس وقت یہ ایک بلین کلومیٹر سے زیادہ فیصلے پر تھا۔ ماہر فلکیات کا کہنا ہے کہ دمدار ستارہ اورٹ کلاؤڈ یا بادل سے تعلق رکھتا ہے جہاں پر بہت سے دمدار ستارے ہیں۔

یہ دمدار ستارہ پچھلے لاکھوں سالوں سے سورج کی جانب اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔

پہلی بار ہمارے نظام شمسی میں

اس دمدار ستارے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اس نظام شمسی میں سے کبھی پہلے نہیں گزرا اور اس سفر کے بعد یہ شائد ایک لاکھ سال بعد دوبارہ ہمارے نظام شمسی میں داخل ہو۔ کہا جا رہا ہے کہ دس مارچ کو یہ دمدار ستارہ سورج کے قریب ترین ہو گا جب اس کا سورج سے فاصلہ 45 ملین کلومیٹر ہو گا۔

اس دمدار ستارے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اس نظام شمسی میں سے کبھی پہلے نہیں گزرا اور اس سفر کے بعد یہ شائد ایک لاکھ سال بعد دوبارہ ہمارے نظام شمسی میں داخل ہو۔

کہا جا رہا ہے کہ دس مارچ کو یہ دمدار ستارہ سورج کے قریب ترین ہو گا جب اس کا سورج سے فاصلہ 45 ملین کلومیٹر ہو گا۔

ماہر فلکیات کا کہنا ہے کہ جب یہ سورج کے قریب ہو گا تو اس کی سطح پر برف اور گرد مائع میں تبدیل ہو جائے گی اور یہ بہت چمکدار ہو جائے گا۔

مارک بیلی کا کہنا ہے ’یہ سورج کے جتنا قریب جائے گا اتنا ہی چمکدار ہوتا جائے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ اس دمدار ستارے کے نیوکلس کا حجم تو بیس سے تیس کلومیٹر ہے لیکن برف اور گرد سمیت اس کُل حجم ایک ملین کلومیٹر سے زیادہ ہے۔

"اس کو دیکھنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ چاند کے بالکل نیچے یا بائیں جانب دیکھیں۔ دوربین کے ذریعے آپ کو اس کا سر اور دو اقسام کی دم نظر آئیں گی۔"

مارک بیلی

ماہرین کے مطابق اس کا سب سے بہترین نظارہ بارہ اور تیرہ مارچ کو ہو گا جب یہ سورج سے دور ہو جائے گا۔

مارک بیلی کا کہنا ہے ’اس کو دیکھنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ چاند کے بالکل نیچے یا بائیں جانب دیکھیں۔ دوربین کے ذریعے آپ کو اس کا سر اور دو اقسام کی دم نظر آئیں گی۔‘

مارک بیلی نے کہا کہ ان کا مشورہ ہے کہ لوگ دمدار ستارے کو دوربین کے ذریعے دیکھنے کی کوشش کریں اور جب مل جائے تو پھر بغیر دوربین کے دیکھیں۔

ماہرین کے مطابق جیسے جیسے دن گزریں گے یہ دمدار ستارہ آسمان پر مزید بلندی پر نظر آئے گا اور اپریل کے آغاز تک یہ صرف طاقتور ٹیلی سکوپ کے ذریعے ہی دیکھا جا سکے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس بار موسم خراب ہوا اور پین سٹارز کو دیکھا نہ جا سکا تو ایک اور موقع اس سال کے آحر میں بھی ملے گا جب دمدار ستارہ آئسون کو ہم دیکھ سکیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔