مریخ پر ماضی میں پانی کی موجودگی کے شواہد

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 مارچ 2013 ,‭ 23:10 GMT 04:10 PST

امریکی خلائی ادارے ناسا نے کہا ہے کہ مریخ گاڑی کیوروسٹی نے ایک اور اہم دریافت کی ہے۔

مریخ گاڑی نے ایک چٹان میں کھدائی کر کے مٹی کے مرکبات کا سراغ لگایا ہے جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ یا تو پانی کی اندر وجود میں آئے تھے یا پھر پانی ان پر خاصا اثرانداز ہوا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے اس دریافت کے نتیجے میں اس خیال میں ایک قدم مزید پیش رفت ہوئی ہے جس کے مطابق سرخ سیارہ کبھی زندگی کے لیے سازگار تھا۔

کیوروسٹی منصوبے سے وابستہ ایک سائنسدان جان گروٹزینگر کا کہنا ہے، ’ہم نے قابلِ رہائش ماحول دریافت کیا ہے جو بہت بے ضرر اور زندگی کے لیے سازگار ہے اور اگر آپ وہاں اس دور میں موجود ہوتے تو شاید آپ اس پانی کو پی بھی سکتے تھے۔‘

کیوروسٹی کے حاصل کردہ نمونے میں بیس سے تیس فیصد سمیکٹائٹ نامی مرکب موجود تھا، جو چکنی مٹی کی دھاتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

ان دھاتوں کی کثرت اور نمکیات کی نسبتاً قلت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس علاقے میں کسی زمانے میں تازہ پانی پایا جاتا تھا۔

اس نمونے میں آئرن سلفیٹ یا میگنیشیم کی بجائے کیلشیم سلفیٹس کی موجودگی سے پتا چلتا ہے کہ یہ پتھر نیوٹرل سے لے کر ہلکے ایلکائن پی ایچ والے ماحول میں وجود میں آئے تھے۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ شاید یہ جگہ کبھی ماضی میں کسی جھیل کی تہہ تھی۔

نمونے کے تحزیے میں سلفر، نائٹروجن، ہائڈروجن، آکسیجن، فاسفورس اور کاربن جیسے عناصر دریافت ہوئے ہیں جو زندگی کے لیے اہم ہیں۔

گذشتہ ماہ کیوروسٹی نے پتھر میں ڈرلنگ کر کے نمونے حاصل کیے تھے اور ان نمونوں کا اسی خلائی گاڑی میں موجود تجربہ گاہ میں معائنہ شروع کیا گیا تھا اور ان تجربات سے مریخ کی سطح پر موسمیاتی تغیر یا تابکاری کے نقصانات سے تحفظ کے شواہد ملیں گے۔

مریخ گاڑی کا مشن یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا مریخ پر موجود گیل نامی گڑھے میں ماضی میں کبھی ایسا ماحول رہا ہے جو جراثیمی زندگی کے لیے سازگار ہو۔

اس تحقیق میں پتھروں کی ساخت معلوم کرنا بے حد ضروری ہے کیوں کہ وہاں ان ارضیاتی حالات کا سراغ موجود ہو گا جس کے تحت وہ وجود میں آئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔