سائبر حملوں پر چین کو امریکی تنبیہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 مارچ 2013 ,‭ 05:59 GMT 10:59 PST

ہم نے سائبر سکیورٹی کو لاحق خطرات میں تیزی سے اضافہ دیکھا ہے: اوباما

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے چین سے امریکہ پر ہونے والے سائبر حملوں کے بارے میں ’سختی سے بات‘ کی ہے۔

امریکی ٹی وی چینل اے بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں براک اوباما نے کہا کہ چین سے ہیکنگ کے تمام تو نہیں مگر کچھ واقعات کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔

انہوں نے یہ بات اس وقت کہی ہے کہ جب امریکی خفیہ اداروں کے سربراہان نے سائبر حملوں کو دہشتگردی کی جگہ ملک کی سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

چین ایسی کسی ہیکنگ سے انکار کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ خود اس قسم کے حملوں کا شکار ہے۔

بدھ کو نشر کیے جانے والے انٹرویو میں اس خیال پر کہ امریکی قانون ساز امریکہ کے انفراسٹرکچر اور اداروں پر سائبر حملوں کو چین کی ’سائبر جنگ‘ قرار دیتے ہیں، امریکی صدر نے کہا کہ ’سائبر جاسوسی اور سائبر حملوں اور ایک جنگ میں بہت فرق ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’جو بات حقیقت ہے وہ یہ کہ ہم نے سائبر سکیورٹی کو لاحق خطرات میں تیزی سے اضافہ دیکھا ہے۔ ان میں سے کچھ کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے جبکہ کچھ کے پیچھے مجرم گروہ ہیں۔‘

امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم نے چین پر واضح کر دیا ہے کہ ہم ان سے عالمی قوانین کی پاسداری کی توقع رکھتے ہیں۔ ہم ان سے بات چیت میں سخت گیر اپنائیں گے اور ہم نے یہ رویہ اپنایا بھی ہے۔‘

گزشتہ برس سامنے آنے والی امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ میں چین کو ’سائبرسپیس کا سب سے خطرناک کردار‘ قرار دیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی محکمۂ دفاع ایک ’ڈیجیٹل پرل ہاربر‘ سے بچنے کے لیے اقدامات کرے۔

سائبر حملوں کا معاملہ چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی وجہِ تنازع بنتا جا رہا ہے اور امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق چینی حکام سے ہر ملاقات میں ہیکنگ کا معاملہ کسی نہ کسی طرح زیرِ بحث آتا ہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔