سمندر کی گہرائیوں میں حیات کی بہتات

آخری وقت اشاعت:  پير 18 مارچ 2013 ,‭ 15:08 GMT 20:08 PST

سائنسدانوں کو حیرت ہوئی جب اتنی بڑی تعداد میں ان سمندری حیات کا پتہ چلا

سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم کا کہنا ہے کہ سمندر کا سب سے گہرا حصہ زندگی سے بھر پور ہوتا ہے اور وہاں سمندری حیات کی بہتات ہوتی ہے۔

یہ تحقیق سائنس کے معروف جریدے نیچر جیو سائنس میں شائع ہوئی ہے۔

اس تحقیق کے منظر عام پر آنے سے پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا سمندر کی گہری وادیاں سمندری حیات کے زندہ رہنے کے لیے موافق نہیں ہوتیں۔ تاہم اس تحقیق سے شواہد ملے ہیں کہ جاندار مخلوق یہاں تقریباً نقتہ انجماد تک پہنچنے والے درجہ حرارت، شدید آبی دباؤ اور مکمل اندھیرے میں بھی زندہ رہتے ہیں۔

سانسدانوں کی تحقیق کے مطابق بحر الکاہل کی ماریانا ٹرینچ کےگیارہ کلومیٹر نیچے تہہ میں انتہائی چھوٹے جاندار موجود ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خلیے کے بنیادی اور چھوٹے جاندار سمندی حیات گہرے پانی میں زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں بہ نسبت کم گہرے پانی کے۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ سمندری حیات مردہ پودوں اور سمندر میں ڈوب جانے والی زندہ مخلوق کو اپنی خوراک بناتے ہیں۔

سکاٹش ایسوسی ایشن برائے سمندری سائنس سے تعلق رکھنے والے سائنسدان اور تحقیقاتی مقالے کے مصنف ڈاکٹر رابرٹ ٹرن وٹچ نے ورلڈ اپڈیٹ کو بتایا کہ سائنسدانوں کو حیرت ہوئی جب اتنی بڑی تعداد میں ان سمندری حیات کا پتہ چلا۔

"ہمیں امید تھی کہ چھوٹے کیڑوں کو دیکھ سکیں گے کیونکہ یہ گہرے پانیوں میں پائے جاتے ہیں اور تقریباً کرہ عرض کے خطے میں موجود ہوتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ دیکھ کر انتہائی حیرت ہوئی کہ یہ انتہائی چھوٹے کیڑے اس جگہ بڑی تعداد میں موجود ہیں جہاں کا ماحول ان کی خوراک کے تناظر میں ساز گار نہیں لگتا اور غذا کا معیار بھی ان انتہائی چھوٹے جانداروں کے لیے مفید نہیں ہے۔ لیکن اس کے بر عکس سمندر کے گہرے حصے میں ان کی تعداد کم گہرے حصے سے کہیں زیادہ ہے۔"

ڈاکٹر ٹرن وٹچ

’ہمیں امید تھی کہ چھوٹے کیڑوں کو دیکھ سکیں گے کیونکہ یہ گہرے پانیوں میں پائے جاتے ہیں اور تقریباً کرہ عرض کے خطے میں موجود ہوتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’لیکن ہمیں یہ دیکھ کر انتہائی حیرت ہوئی کہ یہ انتہائی چھوٹے کیڑے اس جگہ بڑی تعداد میں موجود ہیں جہاں کا ماحول ان کی خوراک کے تناظر میں ساز گار نہیں لگتا اور غذا کا معیار بھی ان انتہائی چھوٹے جانداروں کے لیے مفید نہیں ہے۔ لیکن اس کے بر عکس سمندر کے گہرے حصے میں ان کی تعداد کم گہرے حصے سے کہیں زیادہ ہے۔‘

سنہ دو ہزار دس میں سائنسدانوں نے سمندر کی گہرائیوں سے اندھیرے میں موجود چٹانوں اور تہہ میں موجود مٹی کے نمونے حاصل کئے جن میں آکسیجن کی موجودگی کے معائنے سے پتا چلا کہ ان میں انتہائی چھوٹے جانداروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

ڈاکٹر ٹرن وٹچ نے بتایا کہ جراثیم کے حجم کے یہ جاندار اسی طرح سانس لیتے ہیں جس طرح انسان لیتے ہیں۔ اور آکسیجن کے بلواسطہ طریقوں سے استعمال کا مشاہدہ ان جراثیموں کی پوری نسل میں کیا گیا۔

ڈاکٹر ٹرن وٹچ کا کہنا ہے بڑی تعداد میں نامیاتی اجزا کے زخائر جن میں کاربن کی مقدار سمندر کی ان لمبی اور گہری اور لمبی دراڑوں میں بہت زیادہ ہے اور یہ نامیاتی اجزا یہاں سے کاربن کے زخائر ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے ماضی قریب میں اپنی تحقیقاتی مہم کے دوران کیے گئے مشاہدات کے نتائج امریکن جیو فزیکل یونین فال برائے دو ہزار دو کے ایک اجلاس کے دوران جاری کیے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔