مشتری کے چاند پر اترنا خطرناک ہو گا

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 مارچ 2013 ,‭ 20:19 GMT 01:19 PST

یوروپا کے استوائی خطے میں اس قسم کے برفانی ’بلیڈ‘ پائے جا سکتے ہیں

مشتری کی برفانی چاند یوروپا کے سطح کی نیچے ایک مدفون سمندر ہے جس کے اندر زندگی کے لیے سازگار ماحول پایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مستقبل میں یوروپا کے لیے کئی خلائی مہمیں بھیجے جانے کا امکان ہے۔

تاہم یوروپا کی سطح پر کسی خلائی جہاز کا اترنا آسان نہیں ہو گا کیوں کہ وہاں تیس فٹ اونچے برف کے ٹیڑھے میڑھے ’بلیڈ‘ پائے جاتے ہیں۔ ان بلیڈوں کو ’پینی ٹینٹی‘ کہتے ہیں۔

ایک بڑی امریکی سائنسی کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ اس چاند پر برف کی ان نوکوں کی تشکیل کے لیے مثالی ماحول موجود ہے۔

سائنس دان چاہتے ہیں کہ وہ خلائی جہاز یوروپا کو کسی ایسے مقام پر اتاریں جہاں پر پانی برفیلی سطح سے رِس کر سطح پر جمع ہو گیا ہو۔ ان جگہوں سے اس پانی کا نمونہ حاصل کیا جا سکتا ہے جو برف کی کئی کلومیٹر موٹی تہہ کے نیچے موجود ہے۔

پینی ٹینٹی نظریے کی تفصیلات اس وقت بیان کی گئیں جب سائنس دانوں نے مشتری کے اس چاند کو روبوٹ گاڑی کی مدد سے سیاحت کے ایک اور منصوبے کا جائزہ لیا۔

زمین پر اس قسم کی نوکیں براعظم جنوبی امریکہ کے کوہِ اینڈیز جیسے زیادہ بلندی والے علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔ یہ علاقے سرد اور خشک ہوتے ہیں، جس سے برف ٹھوس سے مائع بنے بغیر بھاپ میں منتقل ہو جاتی ہے۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف کولاریڈو کے ڈاکٹر ڈینیئل ہابلی نے منگل کے روز امریکی ریاست ٹیکسس میں ہونے والی 44ویں قمری و سیاروی کانفرنس میں اپنا مقالہ پیش کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پینی ٹینٹی کی تشکیل کے لیے ایک خاص ماحول چاہیے، جس میں سورج کا زاویہ، درجۂ حرارت میں کمی بیشی کا فرق اور ہلکی فضا کا ہونا شامل ہیں۔

مستقبل قریب میں سائنس دان یوروپا پر ایک ایسی خلائی گاڑی بھیجنا چاہیں گے جہاں اس کے وسیع مدفون سمندر سے پانی نکل کر سطح پر آ گیا ہو۔ اسی ماہ نشر کی جانے والی ایک تحقیق سے مضبوط شہادت ملتی ہے کہ یوروپا کے اندر کے سمندر کا نمکین پانی منجمد سطح تک امڈ کر آ گیا ہو۔

کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ کے مائیک براؤن کہتے ہیں، ’اب ہمارے پاس شہادت موجود ہے کہ یوروپا کا سمندر الگ تھلگ نہیں ہے بلکہ اس کی سطح کے ساتھ بات چیت ہوتی رہتی ہے اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کیمیائی مادوں کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا، ’اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس سمندر میں کیا ہے تو سطح پر جائیں اور اسے کھرچیں۔‘

امریکی خلائی ادارے ناسا نے یورپ کے خلائی ادارے کے ساتھ مل کر 2020 میں ایک خلائی جہاز یوروپا بھیجنا چاہتا ہے جو اس چاند کے گرد چکر لگائے گا۔ اس مہم کا نام یوروپا جیوپٹر سسٹم مشن ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔