’ڈائنوسار دمدار ستارے نے ختم کیے‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 23 مارچ 2013 ,‭ 23:28 GMT 04:28 PST

ساڑھے چھ کروڑ سال قبل ہونے والے اس تصادم میں دنیا سے تقریباً 70 فیصد انواع کا خاتمہ ہو گیا تھا، جن میں سب سے نمایاں ڈائنوسار تھے

آج سے ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے جس خلائی چٹان کے زمین سے تصادم کے نتیجے میں ڈائنوسار معدوم ہو گئے تھے وہ ممکنہ طور پر ایک تیز رفتار دمدار ستارہ تھا۔

یہ بات اس تحقیق کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے جس چٹان کے ٹکرانے سے میکسیکو کے علاقے چکسولوب میں واقع 180 کلومیٹر طویل گڑھا بنا تھا، وہ اتنا بڑا نہیں تھا جتنا پہلے خیال کیا جا رہا تھا۔

بہت سے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس وقت ایک بڑا اور نسبتاً کم رفتار شہابِ ثاقب زمین سے ٹکرایا تھا۔

اس تحقیق کی تفصیلات امریکی ریاست ٹیکسس میں ہونے والی 44ویں قمری اور سیاروی سائنس کانفرنس میں بیان کی گئی ہیں۔

امریکہ کے ڈارٹ متھ کالج کے جیسن مور نے بی بی سی کو بتایا، ’اس پراجیکٹ کا مجموعی مقصد میکسیکو کے اس گڑھے کا سبب بننے والے جسم کی خصوصیات بہتر طریقے سے پیش کرنا ہے۔‘

خلائی چٹان کے ٹکرانے کی وجہ سے دنیا بھر میں راکھ کی تہہ بیٹھ گئی تھی جس میں اریڈیئم نامی عنصر کی اتنی مقدار موجود تھی جو زمین پر فطری طور پر نہیں پائی جاتی۔اس کا مطلب ہے کہ یہ لازماً خلا سے آئی ہو گی۔

تاہم کانفرنس میں سائنس دانوں کی ٹیم نے کہا کہ اس سے پہلے اریڈیئم کی مقدار غلط بیان کی گئی تھی۔ انھوں نے اریڈیئم کا خلائی تصادم سے جمع ہونے والے ایک اور عنصر اوسمیئم سے تقابل کیا، جس سے معلوم ہوا کہ اس چٹان کے ٹکرانے سے اس سے کم ملبہ جمع ہوا تھا جتنا پہلے سمجھا جاتا تھا۔

اریڈیئم کی اس نئی مقدار سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک نسبتاً چھوٹا جسم زمین سے ٹکرایا تھا۔

اتنے چھوٹے جسم کے لیے 180 کلومیٹر چوڑا گڑھا پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ نسبتاً زیادہ رفتار سے سفر کر رہا ہو۔ سائنس دانوں نے نتیجہ نکالا کہ اس قسم کے گڑھے کے لیے شہابِ ثاقب کی بجائے دمدار ستارہ زیادہ بہتر امیدوار ہے۔

ڈاکٹر مور نے کہا، ’اتنا اریڈیئم اور اوسمیئم جمع کرنے کے لیے ایک ایسا شہابِ ثاقب چاہیے جس کا قطر پانچ کلومیٹر ہو۔ لیکن اس حجم کا شہابِ ثاقب دو سو کلومیٹر بڑا گڑھا نہیں بنا پائے گا۔

’اس لیے ہم نے کہا: وہ کیا چیز ہو سکتی ہے جو اتنا گڑھا بنا سکے لیکن اس میں چٹانی مواد بہت کم ہو؟ یہ چیز دمدار ستارہ ہو سکتی ہے۔‘

"وہ کیا چیز ہو سکتی ہے جو اتنا گڑھا بنا سکے لیکن اس میں چٹانی مواد بہت کم ہو؟ یہ چیز دمدار ستارہ ہو سکتی ہے۔"

ڈاکٹر جیس مور

ڈارٹ متھ کالج ہی کے پروفیسر مکل شرما کہتے ہیں کہ شہابِ ثاقب کم رفتار سے سفر کرتے ہیں جب کہ دمدار ستارے بہت تیز رفتار ہوتے ہیں۔

طویل مدار کے دمدار ستارے مٹی، پتھر اور برف پر مشتمل ہوتے ہیں جن کے مدار بہت لمبوترے ہوتے ہیں۔ وہ سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرنے میں سینکڑوں، ہزاروں، بلکہ لاکھوں سال بھی لگا سکتے ہیں۔

آج سے ساڑھے چھ کروڑ سال قبل ہونے والے تصادم میں دنیا سے تقریباً 70 فیصد انواع کا خاتمہ ہو گیا تھا، جن میں سب سے نمایاں ڈائنوسار تھے۔

اس عظیم تصادم سے وسیع پیمانے پر آگ لگ گئی تھی، زلزلے آئے تھے اور ساحلی علاقوں پر زبردست سونامیوں نے تباہی مچائی تھی۔ تصادم کی شدت سے فضا میں مٹی اور گیس بھر گئی تھیں جن کی وجہ سے عالمی درجۂ حرارت گر گیا تھا۔

تاہم امپیریئل کالج آف لندن کے ڈاکٹر گیرتھ کولنز نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ یہ تحقیق ’فکر انگیز‘ ہے، لیکن ارضیاتی کیمسٹری کی مدد سے ٹکرانے والے جسم کے حجم کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔

حال ہی میں کئی خلائی اجسام نے ماہرینِ فلکیات کو حیرت زدہ کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ امر اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ زمین کے آس پاس کا خلائی علاقہ خاصی مصروف جگہ ہے۔

15 فروری کو ایک سو فٹ لمبا شہابِ ثاقب زمین سے صرف 27700 کلومیٹر کے فاصلے سے گزرا۔ اسے صرف ایک سال پہلے دریافت کیا گیا تھا۔

اسی دن ایک 60 فٹ چوڑا شہابِ ثاقب روس کے کوہِ اورال کے اوپر پھٹ گیا جس تقریباً ایک ہزار افراد زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔