’یومیہ570 بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 مارچ 2013 ,‭ 13:25 GMT 18:25 PST

برطانیہ کی کینسر ریسرچ تنظیم کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں گیارہ اور پندرہ سال کی عمر کے دو لاکھ سے زیادہ بچے ہر سال تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں ہر روز 570 بچے پہلی بار تمباکو نوشی کرتے ہیں

تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سگریٹ پیکٹس کو نوجوانوں کے لیے کم پرکشش بنایا جائے تاکہ وہ تمباکو نوشی کی جانب راغب نہ ہوں۔

یہ اعداد و شمار حکومت کی جانب سے نوجوان لوگوں میں شراب نوشی اور تمباکو کے استعمال پر کیے گئے سروے سے سامنے آئے ہیں۔

اس سروے کے مطابق سولہ سال سے کم عمر کے ستائیس فیصد یا دس لاکھ بچوں نے کم از کم ایک بار تمباکوں نوشی ضرور کی ہے۔

تنظیم کے مطابق سنہ 2010 کے مقابلے میں 2011 میں تمباکو نوشی شروع کرنے والے بچوں کی تعداد میں پچاس ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔ سنہ 2010 میں یہ تعداد ڈیڑھ لاکھ تھی۔

کینسر ریسرچ تنظیم کے مطابق یہ بچے زیادہ سگریٹ پینا شروع کردیتے ہیں جیسے جیسے یہ بڑے ہوتے ہیں۔

حکومتی سروے کے مطابق سنہ 2010 میں بارہ سال کی عمر کے بچوں میں کوئی باقاعدہ تمباکو نوشی نہیں کرتا تھا، ایک فیصد کبھی کبھا کرتے تھے اور دو فیصد کا کہنا تھا کہ وہ بقاعدہ سگریٹ پیتے ہیں۔

لیکن سنہ 2011 میں یہی بچے جو اس وقت تیرہ سال کے ہو گئے تھے میں سے دو فیصد باقاعدہ سگریٹ پیتے تھے، چار فیصد کبھی کبھار جبکہ تین فیصد کا کہنا تھا کہ وہ سگریٹ پیتے تھے۔

کینسر ریسرچ کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ایک لاکھ افراد تمباکو نوشی کے باعث ہلاک ہوتے ہیں۔

کینسر ریسرچ تنظیم کا کہنا ہے کہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہ سگریٹ کے ڈبے جو بالکل سادہ ہوتے ہیں ان کو بچے پرکشش نہیں پاتے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔