’گنجے افراد میں امراض قلب کا خطرہ زیادہ‘

Image caption ’جن کے بال جوانی میں ہی جھڑ جائیں انہیں اپنے طرزِ زندگی پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے‘

جاپان میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق گنجے افراد میں امراضِ قلب کا شکار ہونے کے لیے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

37000 کے قریب افراد پر کی گئی یہ تحقیق آن لائن جرنل بی ایم جے اوپن میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق ایسے افراد جن کے بال گر رہے ہیں انہیں دل کی بیماری لاحق ہونے کا خطرہ بتیس فیصد زیادہ ہے۔

تاہم محققین کے مطابق یہ خطرہ مٹاپے یا سگریٹ نوشی کی وجہ سے امراضِ قلب ہونے کے خطرے سے کہیں کم ہے۔

گنجا پن مردوں میں عام ہے اور جہاں پچاس فیصد افراد پچاس کے پیٹے میں بالوں سے محروم ہو جاتے ہیں وہیں ستّر سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اسّی فیصد افراد کے بال گر جاتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ٹوکیو کے محققین نے بالوں کے جھڑنے اور دل کی بیماریوں کا باہمی تعلق تلاش کرنے کے لیے ماضی میں ہونے والی تحقیقات کا بھی جائزہ لیا۔

تحقیقی ٹیم کے رکن ڈاکٹر ٹوموہیڈ یمادا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں گنجے پن اور دل کی بیماریوں کے تعلق کے قابلِ ذکر ثبوت ملے لیکن یہ ثبوت اتنے ٹھوس نہیں جتنے کہ سگریٹ نوشی، مٹاپے، کولیسٹرول کی شرح یا فشارِ خون کے اس بیماری سے تعلق کے ہیں۔‘

ڈاکٹر یمادا نے کہا کہ وہ افراد جن کے بال جوانی میں ہی جھڑ جائیں انہیں اپنے طرزِ زندگی پر نظرِ ثانی کرنے اور صحت مندانہ طریقے سے زندگی گزارنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج اتنے ٹھوس نہیں کہ ہر گنجے شخص کو دل کی بیماری کی تشخیص کے لیے معائنہ کروانا پڑے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن سے تعلق رکھنے والی ڈورین میڈوک کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نتائج دلچسپ ہیں لیکن گنجے افراد کو اس تجزے سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’مردوں میں گنجے پن اور امراضِ قلب کے تعلق کو حتمی طور پر ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور تب تک ضروری ہے کہ آپ اپنی توند کی فکر کریں نہ کہ گرتے بالوں کی۔‘

ڈورین میڈوک کا یہ بھی کہنا تھا کہ وراثت میں ملنے والے گنجے پن پر قابو پانا شاید ممکن نہ ہو لیکن آپ دل کی بیماریوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں