مستقبل میں پروازیں مزید ناہموار ہو جائیں گی

Image caption سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جہازوں کو پہلے ہی زیادہ تند ہواؤں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ موسم کی تبدیلی کی وجہ سے شمالی بحرِ اوقیانوس پر سے اڑنے والے جہازوں کی پروازیں مزید ناہموار ہو جائیں گی۔

جہازوں کو پہلے ہی سے تیز و تند ہواؤں کا سامنا کر پڑ رہا ہے اور برطانیہ کی ریڈنگ یونیورسٹی کی نگرانی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق اب انھیں اور بھی زیادہ تلاطم کا سامنا کر پڑ سکتا ہے۔

سائنسی رسالے نیچر کلائمٹ چینج میں شائع ہونے والے تحقیقاتی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رواں صدی کے وسط تک مسافروں کو ہوائی سفر کے دوران زیادہ جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس کے علاوہ متلاطم ہوا کے علاقے میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔

ریڈنگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر پال ولیمز کہتے ہیں کہ اس بات سے صرف مسافروں کے آرام ہی میں خلل نہیں پڑے گا بلکہ ناہموار فضا کے مالی مضمرات بھی ہوں گے۔

انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا، ’اگر ناہموار فضا سے بچنے کے لیے پروازوں کا راستا تبدیل کیا جاتا ہے تو اس سے زیادہ ایندھن خرچ ہو گا۔ آخرِ کار اس سے کرایے میں اضافہ ہو جائے گا۔‘

سائنس دانوں نے شمالی بحرِ اوقیانوس کی ایک مخصوص پٹی پر توجہ مرکوز رکھی، جہاں سے یورپ اور امریکہ کے درمیان سفر کرنے والی چھ سو کے لگ بھگ پروازیں روزانہ گزرتی ہیں۔

انھوں نے ایک سپر کمپیوٹر کی مدد سے دس کلومیٹر کی بلندی پر موجود ہوا کے جھکڑوں میں آنے والی ممکنہ تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔

اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ اس بلندی پر ہوا زیادہ تیزی سے چل رہی ہے اور جوں جوں زمین کا موسم گرم ہوتا جا رہا ہے، اس سے پروازوں میں مزید ناہمواریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

ڈاکٹر ولیمز اور ان کے ساتھی ڈاکٹر جوشی نے صنعتی دور سے قبل کی فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ایسے ماحول سے تقابل کیا جس میں یہ مقدار بڑھ کر دگنی ہو جاتی ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں ایسا 2050 میں ہونے کا امکان ہے۔

اس ماڈل سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرِ اوقیانوس پر موجود ناہمواری میں دس سے 40 فیصد تک کا اضافہ ہو سکتا ہے، جب کہ وہ علاقہ جس میں ناہمواری زیادہ ہو گی، اس کے رقبے میں 40 فیصد سے لے کر 170 فیصد تک کا اضافہ ہو جائے گا۔

ڈاکٹر ولیمز کہتے ہیں، ’ہوابازی کی دنیا میں درمیانے درجے سے لے کر زیادہ ناہمواری کی فضا ایک خاص تعریف متعین کی گئی ہے۔یہ وہ ناہمواری ہے جو جہاز کو پانچ میٹر فی مربع سیکنڈ کے اسراع سے دھکیل سکے۔ اس کے لیے سیٹ بیلٹ کے نشان آن کر دیے جاتے ہیں، جہاز میں چلنا پھرنا مشکل ہو جاتا ہے اور مشروبات گر سکتے ہیں۔‘

درست اعداد و شمار ملنا مشکل ہیں تاہم اندازہ ہے کہ پرواز کی ناہمواری سے مسافروں کے زخمی ہونے، جہاز کو پہنچنے والے نقصان، اور بعد ازاں ہونے والی تحقیقات سے سالانہ 15 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ خرچ آئے گا۔

اسی بارے میں