ٹیسٹ ٹیوب بے بی تکنیک کے بانی انتقال کر گئے

Image caption پروفیسر سر رابرٹ ایڈورڈز بائیں جانب اور دائیں جانب پہلی ٹیسٹ ٹیوب انسان لویز براؤن اپنی والدہ کے ساتھ

آئی وی ایف طریقۂ علاج یعنی مصنوعی طریقے سے بچہ پیدا کرنے کے بانیوں میں سے ایک ستاسی سالہ پروفیسر سر رابرٹ ایڈورڈز انتقال کر گئے ہیں۔

پروفیسر سر رابرٹ ایڈورڈز اور ان کے کیمبرج کے ساتھی ڈاکٹر پیٹرک سٹیپ ٹو کی مشترکہ کوششوں سے انیس سو اٹھہتر میں دنیا میں پہلا ٹیسٹ ٹیوب بے بی وجود میں آیا تھا۔

ڈاکٹر ایڈورڈز کو سائنس اور طب کے شعبے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں سال دو ہزار دس میں نوبیل پرائز سے اور سال دو ہزار گیارہ میں سر کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔

پروفیسر سر رابرٹ ایڈورڈز کے آئی وی ایف طریقۂ علاج کی وجہ سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو اولاد حاصل ہوئی۔

دنیا کی پہلی ٹیسٹ ٹیوب بے بی لویز براؤن نے پروفیسر سر رابرٹ ایڈورڈز کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

ان کی پیدائش سنہ انیس سو اٹھہتر میں اولڈہیم جنرل ہسپتال میں ہوئی تھی۔لویز براؤن کے مطابق وہ پروفیسر ایڈورڈز کی عزت اپنے دادا کے طور پر کرتی تھیں۔

’ڈاکٹر پیٹرک سٹیپ کے ساتھ ان کے کام نے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو اولاد حاصل کرنے کے قابل بنایا اور ان کی زندگیوں میں خوشی بکھیر دی‘۔

پروفیسر ایڈورڈز کا انتقال طویل علالت کے بعد نیند کے دوران ہوا۔وہ سنہ انیس سو پچیس میں یاکشائر میں پیدا ہوئے تھے۔

انہوں نے دوسری جنگ عظیم میں برطانوی فوج کی طرف سے حصہ لیا اور اس کے بعد زرعی سائنس اور بعد میں اینمل جینیات میں تعلیم حاصل کی۔

پروفیسر سر رابرٹ ایڈورڈز کی ابتدائی تحقیق کے نتائج کے مطابق خرگوشوں میں انڈوں کے سیلز کو ٹیسٹ ٹیوب میں رکھا جائے اور ان میں سپرم ڈالنے سے یہ زرخیر ہو جاتے ہیں، بعد میں پروفیسر ایڈورڈز نے یہ ہی طریقہ انسانوں کے لیے ایجاد کیا۔

کیمبرج یونیورسٹی جہاں پروفیسر سر رابرٹ ایڈورڈز فلیو تھے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا کام کیا جس نے عظیم اثر ڈالا۔

دنیا میں ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد پچاس لاکھ سے زائد ہے۔

اسی بارے میں