’ریاستی سرپرستی میں صنعتی رازوں کی تلاش‘

Image caption رپورٹ کے مطابق کمپنیوں کو کئی ماہ لگ جاتے ہیں یہ جاننے کے لیے ہیکرز نے ان کی کون سی معلومات چوری کی ہیں

ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2012 میں کمپنیوں کے لیے بڑا سائبر خطرہ ریاستی سرپرستی میں کی گئی صنعتی جاسوسی رہا ہے۔

ورائزن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سائبر خطروں میں دوسرے نمبر پر ریاستی سرپرستی میں کیے گئے سائبر حملے ہیں۔

کمپنیوں کے نیٹ ورک کو ہیک کر کے رقم چرانا سائبر کرائم میں پہلے نمبر پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق کمپنیوں کو یہ جاننے میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں ہیکرز نے ان کی کون سی معلومات چوری کی ہیں۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں آئی ہے جب لندن میں سالانہ سکیورٹی کانفرنس کا انعقاد ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھہتر فیصد سائبر جرائم کے پیچھے مالی عزائم ہوتے ہیں لیکن بیس فیصد کیسز میں ہیکرز تجارتی راز یا انٹیلیکچوئل پراپرٹی کو حاصل کرتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مصنف سکیورٹی تجزیہ کار ویڈ بیکر کا کہنا ہے ’اعداد و شمار میں سب سے زیادہ اضافہ ریاستی سرپرستی میں جاسوسی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2012 میں ریاستی سرپرستی میں سائبر حملوں میں اتنا اضافہ ہوا ہے کہ اس کا ذکر کرنا لازمی ہو گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق صنعتی جاسوسی میں اشیا بنانے والے اور ٹرانسپورٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔

ویڈ بیکر کا کہنا ہے ’ہمیں یہ ماننا چاہیں گے کہ سائبر سکیورٹی سخت کرنے کے باعث ہیکرز اپنا طریقہ کار تبدیل کر رہے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔ وہ وہی طریقہ کار استعمال کر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں