سام سنگ کا ذہن سے ٹیبلٹ چلانے کا تجربہ

سام سنگ مائنڈ یا ذہن سے کنٹرول ہونے والے ٹیبلٹ بنانے کا تجربہ کر رہا ہے جس کی بدولت لوگوں کا آلات سے کام لینے کے طریقوں میں انقلابی تبدیلی آ جائے گی۔

سام سنگ اور اس کے ساتھ کام کرنے والے امریکی محقیقین نے گیلیکسی ٹیبلٹ پر ایک بلنکنگ آئکن پر توجہ مرکوز کرکے اپلیکیشن چلانے اور سلیکشن کرنے کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس ٹیبلیٹ کے استمال کرنے والوں کو ایک ایسی ٹوپی پہننی ہوتی ہے جس میں برکی آلات لگے ہوتے ہیں۔

سام سنگ نے پہلے ہی ایسا سمارٹ فون متعارف کروایا ہے جسے صارف چھوئے بغیر صرف اپنی آنکھوں سے کنٹرول کر سکتے ہیں۔

’سمارٹ پاز‘ ٹیکنالوجی کی مدد سے صارف اگر سکرین سے نظریں ہٹا لے تو فون میں چلنے والی ویڈیو وہیں رک جائے گی۔

اس کے علاوہ ’سمارٹ سکرول‘ صارف کی آنکھوں اور کلائیوں پر نظر رکھتا ہے اور ای میل اور دوسرے صفحوں کو سکرین چھوئے بغیر سکرول کر سکتا ہے۔

سام سنگ نے ایک شخص کو اپنے مائنڈ یا ذہن کا استعمال کرتے ہوئے میوزک سیلیکٹ کرنے اور اسے چلانے اور پھر اسے روکنے کا مظاہرہ کیا۔

سام سنگ کے بڑے محقق اینسو کیم کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے صارف ٹیبلٹ کو کنٹرول کر سکتا ہے وہ اوسطاً پانچ سیکنڈ فی سیلیکشن ہے اور جس کی درستگی 85 سے 95 فیصد ہے۔

اس آلے کو بنانے کے لیے سام سنگ ایمرجنگ ٹیکنالوجی لیب کے محقیقین نے ٹیکساس یونیورسٹی کے روز بیح جعفری کے ساتھ کام کیا۔

پروفیسر جعفری اس آلے کے ہیڈ سیٹ کے استعمال کو مزید آسان بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

دریں اثنا آئی بی ایم نے بھی مائنڈ کنٹرول ہیڈ سیٹ کے ساتھ تجربات کیے ہیں۔

آئی بی ایم میں کام کرنے والے موجد کہتے ہیں کہ ’ہر کسی کے لیے یہ بڑا مشکل کام ہوتا ہے کہ وہ پوری توجہ مرکوز کرکے ان آلات پر کام کریں۔۔۔یہ آلات عام لوگ استعمال نہیں کریں گے۔ ‘

ان کے خیال میں مستقبل میں مائنڈ کنٹرول ہیڈ سیٹ کا لوگوں کے موڈ کا پتہ لگانے استعمال ہوگا۔ اسے مثال کے طور پر ایک سیاستدان کے طرف ہجوم کے رویے کو معلوم کرنے کے لیے استمال کیا جائے گا

اسی بارے میں