بوئنگ 787 کی پروازیں دوبارہ شروع

Image caption آل نپون ائر ویز کے ایک طیارے کو پرواز کے فوری بعد بیٹری کے مسائل کی وجہ سے ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔

سنیچر کی صبح ایتھوپیا کی فضائی کمپنی کے ایک بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے کی پرواز کے ساتھ ہی جنوری میں ان طیاروں کی پرواز پر پابندی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے کی پابندی کے بعد یہ پہلی پرواز ادیس ابابا سے کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے لیے روانہ ہوئي ہے۔

بوئنگ کمپنی نے اپنے اس جہاز میں بعض تکنیکی خرابیوں کے سبب جنوری سے اس کی پروازیں بند کر دی تھیں۔

اس طیارہ کوگراؤنڈ کرنے کی اہم وجہ ان طیاروں میں بیٹری کے مسائل بتائی گئي تھی جس کی وجہ سےامریکہ میں ایک جہاز میں آگ لگنے کا واقعہ بھی پیش آيا تھا۔ اسی کے بعد سے دنیا بھر کے تقریبا میں زیر استعمال پچاس طیاروں کی پروازیں بند کر دی گئی تھیں۔

لیکن گزشتہ کئي ہفتوں سے انجنیئرز جہاز میں نئی بیٹریاں نصب کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہوا بازي کے محکمہ کی جانب سے نئی بیٹریوں کے ڈیزائن کی منظوری دینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گيا تھا۔

بوئنگ کمپنی کا کہنا ہے اس مسئلے کو دور کرنے کے لیے تقریبا دو لاکھ گھنٹے کا وقت لگا جس کے لیے عملے نے مستقل چوبیس گھنٹے کام کیا۔

کمپنی کے مطابق تقریبا تین سو انجنیئرز پر مبنی دس ٹیمیں تشکیل دی گئیں جنہوں نے مختلف کمپنیوں کے 787 طیاروں میں بیٹری ٹھیک کرنے کا کام کیا۔

اس وقت دنیا بھر میں پچاس کے قریب 787 ڈریم لائنر طیارے سروس میں ہیں اور ان سب میں نئی بیٹریاں لگائی گئی ہیں۔

ہر ایک787 طیارے میں دو لیتھیم آئن بیٹریاں پہلے ہی سے ہیں اور اب اس میں دو اضافی بیٹریاں بھی لگائی گئی ہیں جو کم درجہ حرارت میں کام کرتی ہیں۔ ان بیٹریوں کو سٹینلیس سٹیل کے باکس میں نصب کیا گيا ہے۔

پہلے سے موجود بیٹریاں پرواز کے دوران اب آن نہیں ہونگی اور ان کا استعمال لینڈنگ کے دوران بیک اپ پاور کے لیے ہی ہوگا۔

اس طیارے کی قیمت دو سو ملین ڈالر سے تین سو ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے اور بھارت کی ایئر انڈیا، امریکہ کی یونائیٹڈ ایئر لائنز اور قطر ایئرویز سمیت دنیا کی آٹھ ہوائی کمپنیاں اب تک فروخت ہونے والے پچاس بوئنگ787 طیارے تیاروں کی مالک ہیں۔

ان انچاس میں سے تئیس صرف جاپان کی دو ہوائی کمپنیوں کے پاس ہیں جبکہ مختلف ہوائی کمپنیوں نے آٹھ سو سے زائد طیاروں کا آرڈر دے رکھا ہے۔

ڈریم لائنر طیارے دو ہزار گيارہ میں پہلی بار سروس میں متعارف کیےگئے تھے۔ جہاز کا بیشتر حصہ ہلکے اجزاء اور مادوں سے بنایا گيا ہے جس سے دوسرے طیاروں کے مقابلے اس میں ایندھن کی کم کھپت ہوتی ہے۔

اسی بارے میں