گوگل ’ویوی‘ کا نیا مالک

Image caption یہ سروس ایک منٹ میں ایک ہزار اداریے صارفین تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے

سرچ انجن گوگل نے صارفین کو خبریں فراہم کرنے والی سروس ’ویوی‘ کو تقریباً تین کروڑ ڈالر میں خرید لیا ہے۔

گوگل اور ’ویوی‘ دونوں نے ہی معاہدے کی اصل رقم نہیں بتائی ہے لیکن اطلاعات ہیں کہ دونوں کے مابین تقریباً تین کروڑ ڈالر میں معاہدہ طے پایا ہے۔

گزشتہ سال منظرِ عام پر آنے والی ویب سائٹ وئےوی آئے سروس اپنے صارفین کو خبریں کا خلاصہ فراہم کرنے کے علاوہ ان کی دلچیسپی کے بلاگز کی معلومات بھی فراہم کرتی ہے۔

یہ سروس ایک منٹ میں ایک ہزار اداریے صارفین تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ویوی کے بانی انجینیئر اس سے پہلے ایمازون اور مائیکروسافٹ کے لیے کام کر چکے ہیں اور وہ سمارٹ فونز اور ویب سائٹ کے ذریعے اپنی خدمات فراہم کرتے ہیں۔

ویوی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے لیکن گوگل کی خریداری کے بعد اس میں تبدیلی آ سکتی ہے کیونکہ گوگل اور فیس بک ایک دوسرے کے حریف ہیں۔

ویوی کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے خبروں کے تمام موضوعات کو جمع کر کے انہیں نیوز فیڈ میں تبدیل کرے گی یا پھر فیس بک کو گوگل سے ہٹا دیا جائے گا لیکن فیس بک کے ساتھ رابطہ ختم نہیں کیا جائے گا اور فیس بک اب بھی اپنے صارفین کو ان کی دلچیسپی کے بارہ موضوعات کے انتخاب کی اجازت دے گا۔

ماہرین کے مطابق اس نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے گوگل اپنے سرچ انجن کو خبروں کی بہتر تلاش کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

اس سے پہلے کمپیوٹر اور موبائل فون مصنوعات بنانے والی مشہور امریکی کمپنی ایپل نے بھی’سٹارٹ اپ‘ سروس کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کر تھی۔

اطلاعات کے مطابق ایپل اس ٹیکنالوجی کو اپنی مصنوعات میں شامل کرنا چاہتی تھی۔

انٹرنیٹ کی ایک اور مقبول کمپنی یاہو نے گزشتہ ماہ خبریں جمع کرنے والی ایپلیکشن ’سملی‘ کئی لاکھ پاونڈز میں خریدی ہے۔ یاہو نے کچھ ہفتے قبل ہی آئی فونز میں ایپلیکشن کی سہولت فراہم کی ہے۔