ملیریا کی اہم دوا بھی بے اثر ہو گئی

Image caption کمبوڈیا میں پائے جانے والے جرثومے جینیاتی طور پر دوسرے جرثوموں سے مختلف ہیں

ملیریا کا باعث بننے والے جرثومے کی ایسی نئی نسل دریافت ہوئی ہے جس پر ملیریا کی عام دواؤں کا اثر نہیں ہوتا۔

سائنس دانوں نے یہ جرثومہ کمبوڈیا سے دریافت کیا ہے اور یہ دنیا میں پائے جانے والی دوسری اقسام سے جینیاتی طور پر مختلف ہے۔

ان جانداروں پر ملیریا کی سب سے اہم دوا آرٹیمی سیِنن کا اثر نہیں ہوتا۔

اس خطے میں دوا کے خلاف مدافعت کی اطلاعات سب سے پہلے 2008 میں آئی تھیں۔ اس کے بعد سے یہ مسئلہ جنوب مشرقی ایشیا کے دوسرے حصوں تک پھیل گیا ہے۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے نیچر جنیٹکس میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر اولیو میوتو آکسفرڈ یونیورسٹی اور تھائی لینڈ کی ماہیدول یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’اس طفیلیے نے اپنے اندر مدافعت پیدا کرنے کی زبردست صلاحیت سے پچھلے چند عشروں کے دوران ہماری سب سے موثر دوا کو ناکارہ کر کے رکھ دیا ہے۔‘

’اس وقت آرٹیمی سینِن بہت اچھے طریقے سے کام کرتی ہے۔ یہ ملیریا کے خلاف ہمارا بہترین ہتھیار ہے اور ہم اسے اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہیں گے۔‘

سائنس دان کہتے ہیں کہ مغربی کمبوڈیا ملیریا کے خلاف مدافعت کا گڑھ ہے۔

اگرچہ اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی کہ 1950 کے عشرے ہی وہاں طفیلیوں نے ملیریا کی مختلف ادویات کے خلاف مدافعت پیدا کی ہے۔ اس کے بعد سے یہ مسئلہ ایشیا اور افریقہ کے مختلف حصوں تک پھیل گیا ہے۔

اب سائنس دانوں کو خدشہ ہے کہ آرٹیمی سیِنن کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو گا۔ یہ دوا دنیا بھر میں ملیریا کے خلاف بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے، اور جب اسے دوسری ادویات کے ساتھ ملا کر مریض کو دیا جائے تو یہ مرض کا چند دنوں میں خاتمہ کر سکتی ہے۔

اس تحقیق کے لیے سائنس دانوں نے دنیا بھر سے ملیریا پھیلانے والے جرثومے پلازموڈیئم فیلسی پیرم کے 800 جینومز (مکمل ڈی این اے) کا تجزیہ کیا۔

ڈاکٹر میوتو کہتے ہیں، ’جب ہم نے کمبوڈیا کے جرثوموں کے ڈی این اے کا تقابل دوسرے ممالک سے ملنے والے جرثوموں سے کیا تو معلوم ہوا کہ کمبوڈیا میں ایک نئی نسل نمودار ہو گئی ہے جو اور کہیں نہیں پائی جاتی۔‘

سائنس دان کہتے ہیں کہ انھیں فی الحال یہ معلوم نہیں کہ ڈی این اے میں وہ کیا تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جنھوں نے آرٹیمی سیِنن کے خلاف مدافعت کو جنم دیا ہے۔

تاہم اگر یہ پتا چل جائے تو اس سے ان نسلوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملے گی۔

اقوامِ متحدہ کے ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ ملیریا کے جرثوموں کے اندر مدافعت پیدا کرنے سے روکنا ان کا اہم مقصد ہے۔ ادارے کے مطابق 2010 میں ملیریا کے ہاتھوں ساڑھے چھ لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہوئے۔

افریقہ سب سے متاثرہ براعظم ہے جہاں 90 فیصد سے زیادہ اموات واقع ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں