مصنوعی جلد میں لمس کی صلاحیت

انسانوں کی چھونے کی حس کی سائنسی طور پر نقل تیار کرنے میں ایک اور پیش رفت سامنے آئی ہے۔

ایک سائنسی جریدے میں چھونے کی حس کا اندازہ لگانے والے اس سینسر کا اعلان کیا گیا ہے جو غلاف کی مانند ہے۔

توقع ہے کہ سینسر کی مدد سے روبوٹس میں بھی چھونے یا محسوس کرنے کی حس پیدا کی جا سکے گی۔

امریکہ اور چین کے سائنسدانوں پر مشتمل ٹیم نے تجرباتی بنیاد پر ایک ایسا غلاف یا سینسر بنایا ہے جو انسانی انگلیوں کی طرح سے کسی بھی چیز کے دباؤ کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ اس پیش رفت سے ایک ایسی نقلی جلد کی تیاری میں تیزی آ سکتی ہے جو محسوس کرنے یا قوتِ لامسہ کی صلاحیت رکھتی ہو۔

محققین نے زنک اکسائیڈ کا استعمال کرتے ہوئے ایسا غلاف تیار کیا جس میں آٹھ ہزار ٹرانزسٹر لگائے گئے ہیں اور ہر ٹرانزسٹر خودمختار طور پر الیکٹرانک سگنلز پیدا کرتا ہے۔

جارجیا انسٹیٹوٹ کے پروفیسر زونگ لا وینگ کا کہنا ہے کہ ‘کسی بھی حرکت، مثلاً روبوٹس کے بازو یا انگلیوں کی حرکت، کو سگنلوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اس حرکت سے مصنوعی جلد میں انسانی جلد جیسی حساسیت پیدا ہو سکتی ہے، اور یہ سطح پر ہونے والی حرکت کو بھی محسوس کر سکے گی۔

جارجیا کے محققین کی تخلیق کا انحصار مختلف طعبیاتی حرکات پر ہے اور زنک آکسائیڈ جیسے مادے میں تھوڑی سی بھی حرکت سگنلز کے ذریعے موصول ہوتی ہے۔

پروفیسر زینگ کا کہنا ہے کہ یہ نسبتاً نئی ٹیکنالوجی ہے اور اسے روبوٹ سمیت انسانوں کے لیے بھی وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔