’ابتدائی برطانوی آبادکار آدم خور ہو گئے تھے‘

امریکی تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ شمالی امریکہ میں پہلے برطانوی آبادکاروں کی ہڈیوں کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ وہ 10-1609 میں سخت سردی کے باعث آدم خور ہو گئے تھے۔

سائنسدانوں کو ان کی ہڈیوں پر مخصوص نشانات ملے ہیں جو انسانی ہڈیوں پر سے گوشت اتارنے سے مماثلت رکھتے ہیں۔

سائنسدانوں کو امریکی ریاست ورجینیا کے علاقے جیمز فورٹ سے چوتھی صدی کی ایک چودہ سالہ لڑکی کی کھوپڑی اور ہڈی ملی ہے۔

جیمز فورٹ 1607 میں قائم کیا گیا تھا۔

سمتھسونیئن میوزیئم آف نیچرل ہسٹری کے ڈاکٹر ڈگ اوسلی کا کہنا ہے ’اس کھوپڑی اور ہڈی سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس لڑکی کے جسم کے ٹکڑے کیے گئے اور گوشت اتارا گیا۔‘

اس سے پہلے کافی دستاویزات ملے ہیں جن میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ جیمز فورٹ کے باسی آدم خور ہو گئے تھے۔ لیکن اس چودہ سالہ لڑکی کی ہڈی اور کھوپڑی پر تحقیق سے اس بات کے شواہد بھی ملے ہیں۔

مورخین سنہ 10-1609 کو بھوک کا وقت کہتے ہیں۔

سمتھسونیئن کے تحقیقدانوں کا کہنا ہے کہ چودہ سالہ بچی کی لاش لوگوں کی خوراک بنی۔

ڈاکٹر اوسلی کا کہنا ہے ’اس بچی کی ہڈیوں پر کئی نشانات تھے۔ اس کے ماتھے پر چھریوں کے نشان تھے، کھوپڑی کے پچھلے حصے پر اور سر کے دائیں طرف بھی چھریوں کے نشان تھے۔‘

تحقیق سے یہ بھی معلوم چلا ہوا ہے کہ اس لڑکی کی زبان بھی نکالی گئی۔

انہوں نے مزید کہا ’ان تمام نشانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس لڑکی کے دماغ کو نکالنے کی کوشش کی گئی تھی۔ انہوں نے یہ حرکت نہایت مشکل وقت میں کی اور کسی قسم کا بھی گوشت وہ کھانے کو تیار تھے۔‘

تاہم تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ نشانات سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ یہ کام نہایت ہچکچاہٹ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جس نے بھی یہ کام کیا وہ ماہر قصائی نہیں تھا۔

تحقیق میں یہ بات نہیں معلوم ہوئی کہ اس لڑکی کی موت کس وجہ سے ہوئی۔ تاہم اس بات کا کے شواہد ملے ہیں کہ اس لڑکی کی موت کے فوراً بعد اس کے ٹکڑے کیے گئے۔

ڈاکٹر اوسلی کا کہنا ہے ’دماغ نکالنے کی کوشش بہت جلد کرنی ہوتی ہے کیونکہ دماغ کچھ دیر بعد خراب ہو جاتا ہے۔‘

اس لڑکی کے بارے میں صرف یہ معلوم ہو سکا ہے کہ وہ چودہ برس کی تھی اور برطانوی تھی۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک وقت میں کافی صحت مند تھی اور گوشت خوب پیٹ بھر کر ملتا تھا۔

اسی بارے میں