شمسی توانائی سے چلنے والے جہاز کی پرواز

Image caption اس جہاز کے پنکھے ائر بس اے340 جتنے ہیں لیکن اس کا وزن صرف 1.6 ٹن ہے

شمسی توانائی سے اْڑنے والے جہاز نے امریکہ کو عبور کر کے اپنی پرواز کا پہلا حصہ مکمل کر لیا ہے۔

سولر ایمپلس کے نام سے جانے والے اس جہاز نے جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق صبح 6:12 بجے امریکی شہر کیلیفورنیا کے سان فرانسیسکو ایئرپورٹ سے پرواز کی اور اٹھارہ گھنٹے بعد ایرزونا میں فینیکس کے سکائی ہاربر ایئرپورٹ پر مقامی وقت کے مطابق جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو12:30 بجے اتر گیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سولر ایمپلس نے کئی گھنٹے تک رات کی تاریکی میں پرواز کی اور اس نے شمسی توانائی سے چارج ہونے والی بیٹریوں میں جمع توانائی کا استعمال کیا۔

دن کی روشنی میں یہ بیٹریاں تقربیاً 12000سولر سیلز کی مدد سے چارج ہوتی ہیں جو جہاز کو تاریکی میں بھی چلانے میں مدد دیتی ہیں۔

سولر ایمپلس آئندہ چند ہفتوں میں ڈیلاس، سینٹ لوئیس، واشنگٹن ڈی سی اور نیویارک میں پڑاؤ کرے گا۔

اس جہاز کے پر ائربس اے340 جتنے بڑے ہیں لیکن ان کا وزن صرف ایک اعشاریہ چھ ٹن ہے۔

سولر ایمپلس نے جمعہ کو پرواز شروع کی تھی اور اس کو اڑانے والے پائلٹس نے اس پرواز سے ماحول دوست توانائی کے اقدام کا آغاز کیا۔

اس پرواز کا مقصد پالیسی سازوں اور کاروباری شخصیات کو توانائی کے دائمی ذرائع اور ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

جہاز کے پائلٹ برٹ نرڈ پیکارڈ نے رواں سال مارچ میں اس مشن کا آغاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ ہم یہ دیکھانا چاہتے ہیں کہ ماحول دوست ٹیکنالوجی کے ساتھ ایک پرعزم اور دور اندیش ٹیم ناممکن کو ممکن بنا سکتی ہے‘۔

برٹ نرڈ پیکارڈ اس جہاز کے بانیوں میں سے ایک ہیں اور ان کی پہچان اس حوالے سے بھی زیادہ ہے کہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے سنہ 1999 میں گرم ہوا کے غبارے میں دنیا کے گرد چکر لگایا تھا۔

جہاز کے ایک دوسرے بانی اندرے بوریش برگ اور برٹ نرڈ پیکار نے گذشتہ چند سالوں میں کئی عالمی ریکارڈ قائم کیے ہیں۔

یہ دونوں جہاز کے نئے سفر کے دوران مشترکہ طور پر سولر ایمپلس کو اْڑائیں گے۔

اندرے بوریش برگ نے بی بی سی کو بتایا کہ’ہم اس پرواز کے لیے گذشتہ گرمیوں سے تیاری کر رہے ہیں۔ اس لیے ہم سب اس کے لیے بہت پرجوش ہیں۔‘

بغیر ایندھن کے جہاز کے ذریعے امریکہ کو عبور کرنے کا اپنی نوعیت کا پہلے تجربہ ہے۔

موجودہ ایچ بی۔ایس آئی اے جہاز اس جہاز کے ماڈل کی نقل ہے جو پوری دنیا کے گرد چکر لگائے گا۔

اندرے بوریش برگ نے بتایا کہ’آپ اس کو اس طرح دیکھیں جیسا کہ 1915 میں شروع کے ہواباز ایک ملک سے دوسرے ملک پرواز کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن ان سے یہ نہیں ہو پا رہا تھا لیکن یہ ہوا بازی میں ایک بہت بڑا قدم تھا۔‘

اسی بارے میں