نئی تکنیک سے مصنوعی حمل کی کامیابی میں اضافہ

Image caption انسانی جنین کا مشین میں اچھی طرح مطالعہ کرکے بہترین جنین کو منتخب کیا جاتا ہے

ایک برطانوی تحقیق کے مطابق جنین کے پنپتے وقت اس کی مسلسل تصاویر لینے کے طریقے سے مصنوعی حمل (ٹیسٹ ٹیوب بے بی) کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

جنین حمل ٹھہرنے کے بعد بچے کی اس حالت کو کہتے ہیں جس میں بچہ بے حد چھوٹا ہوتا ہے اور بعد میں نشو و نما کے عمل سے گزر کر انسانی شکل اختیار کرتا ہے۔ مصنوعی طریقۂ حمل میں جنین تجربہ گاہ میں تیار کیا جاتا ہے اور پھر اسے مادرِ رحم میں رکھا جاتا ہے۔ تاہم ایسے اکثر بچے جینیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

نئی تکنیک میں بہت سے جنین تیار کر کے انھیں مشین میں ڈال کر مسلسل تصاویر لی جاتی ہیں، اور اس دوران یہ دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کونسا جنین ایسا ہے جس میں بیماری پیدا ہونے کے امکانات کم ہیں۔ اس جنین کو شناخت کر کے اسے مادرِ رحم میں رکھنے کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔

اس طریقے کے بارے میں جریدے ’ریپروڈکٹیو بائیو میڈسن آن لائن‘ میں تفصیل سامنے آئی ہے جس میں زیادہ صحت مند جنین کو حمل کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔

گذشتہ برس مانچسٹر میں واقع ’ کیئر فرٹیلٹی کلینک‘ میں اس تحقیق کے طریقہ کار کو بعض جوڑوں پر آزمایا گيا اور 88 جنین کو پہلے مشین میں ڈال کر دیکھا گيا اور پھر ان میں سے بہترین جنین کو حمل کے لیے منتخب کیا گيا۔

اس مقصد کے لیے جنین کو انکیوبیٹر میں رکھ کر ہر دس اور بیس منٹ میں اس کی تصویریں بنائي گئیں۔

محققین نے تجربات کی بنیاد پر جنین کو بیمار کروموسم پیدا ہونے کے خطرے سے دوچار سب سے کم، متوسط اور سب سے زیادہ خطرے والے تین زمروں میں تقسیم کیا۔

سب سے کم رسک والے جنین سے گيارہ بچے پیدا ہوئے یعنی 61 فیصد کامیابی ملی جب کہ متوسط درجے کے رسک والے جنین سے پانچ بچے پیدا ہوئے، یعنی 19 فیصد کی کامیابی ملی لیکن ہائی رسک والے جنین سے ایک بھی بچہ پیدا نہیں ہوا۔

کیئر فرٹیلٹی گروپ کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جنین کی اس طرح سے تشخیص کے بعد انتخاب کرنے سے آئی وی ایف یعنی مصنوعی طریقے سے حمل کے ذریعے پیدائش کی شرح بڑھائی جا سکتی ہے۔

اس گروپ کے پرفیسر سائمن فیشل کا کہنا ہے، ’میں اس شعبے میں 35 برس سے کام کر رہا ہوں، جو افراد ٹیسٹ ٹیوب بچہ پیدا کرنا چاہتے ہیں یہ ان کے لیے نہایت اہم پیش رفت ہے۔‘

ان کا مزید کہا تھا، ’یہ تکنیک ہمیں یہ بتا سکتی ہے کہ کونسا جنین زیادہ مناسب ہے اور کس میں سب سے صحت مند بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس میں بڑے امکانات ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے جنین مادر رحم میں ہو اور اس پر ایک کیمرہ نصب ہو۔‘

مصنوعی استقرار حمل میں معمول کا طریقہ یہ ہے کہ جنین کو مائیکرو سکوپ میں چیک کرنے کے بعد اسے انکیوبیٹر سے ہٹا لیا جاتا ہے اور پھر اسے مادرِ رحم میں ڈالا جاتا ہے۔

لیکن نئی تکنیک کے تحت جنین کو مادرِ رحم میں ڈالنے تک انکیوبیٹر میں رکھا جاتا ہے اور اس دوران اس کی تقریبا پانچ ہزار تصاویر کھینچی جاتی ہیں تاکہ کسی بھی بیماری کی شناخت ہو سکے اور ان میں سے سب سے بہتر جنین کی شناخت ہوسکے۔

تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس نئی تکنیک کے نتائج بہت اچھے ہیں لیکن اس سلسلے میں صرف 69 جوڑوں پر ہی تجربہ کیا گيا ہے جو حتمی فیصلے کے لیے ناکافی ہے۔

اسی بارے میں