چھاتی کا سرطان: خطرہ کتنا ہے؟

Image caption جولی کو اپنی والدہ سے تقلیب شدہ جین ورثے میں ملا تھا

اینجلینا جولی نے دونوں چھاتیوں کی سرجری کروا لی کیوں کہ ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ انھیں چھاتی کے سرطان کا 87 فیصد خطرہ ہے۔ یہ تخمینہ کیسے لگایا گیا اور دوسری خواتین کو چھاتی کے سرطان کا کتنا خطرہ لاحق ہوتا ہے؟

اینجلینا جولی کو چھاتی کے سرطان کا اس قدر خطرہ اس لیے زیادہ تھا کہ انھیں اپنی والدہ سے وراثت میں تقلیب شدہ BRCA1 نامی جین ملا تھا۔ جولی کی والدہ مارشلین برٹرینڈ 56 برس کی عمر میں چھاتی کے سرطان سے فوت ہو گئی تھیں۔

BRCA1 جین ویسے تو ہر خاتون میں پایا جاتا ہے لیکن ہزار میں سے ایک میں اس کی تقلیب شدہ (میوٹیٹڈ) شکل پائی جاتی ہے۔ اگر کسی خاتون میں یہ تقلیب شدہ جین موجود ہو تو اس کے چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہونے کا خطرہ 50 تا 80 فیصد ہوتا ہے۔

لیکن جولی میں یہ خطرہ کچھ دوسرے عوامل کی وجہ سے اور بھی زیادہ تھا۔ ان میں خاندان کے اندر اس سرطان کی موجودگی شامل ہے۔

ڈاکٹر کیٹ آرنی کینسر ریسرچ یو کے نامی ادارے میں سینیئر سائنس مینیجر ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’ایسے کئی کمپیوٹر پروگرام موجود ہیں جن کے اندر جینیاتی معلومات، فیملی ہسٹری، اور دوسری ایسی معلومات ڈالی جائیں تو وہ خطرے کا درجہ بتا دیتے ہیں۔ اسی طریقے کو استعمال کر کے جولی کو 87 فیصد خطرہ بتایا گیا‘۔

لیکن اگر کسی خاتون میں تقلیب شدہ جین موجود نہ ہو تو اسے چھاتی کا سرطان ہونے کا کتنا خطرہ لاحق ہوتا ہے؟

عالمی ادارۂ صحت کہتا ہے کہ چھاتی کا سرطان ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں پہلے ہی خواتین کا سب سے عام سرطان ہے۔ اور بہت سے ممالک میں اس کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

برطانیہ میں سنہ 1971 سے 2010 تک اس کی شرح میں 90 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں بھی یہ شرح بڑھتی جا رہی ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ لوگوں کی اوسط عمر میں اضافہ ہو رہا ہے اور سرطان بڑی حد تک بڑھاپے کی بیماری ہے۔

برطانیہ میں 30 سال سے کم عمر خواتین کو چھاتی کا سرطان ہونے کا امکان 2000 میں سے ایک ہوتا ہے۔ 50 برس کی عمر کی خواتین میں یہ خطرہ بڑھ کر 50 میں ایک ہو جاتا ہے، جبکہ 70 برس عمر والی 13 میں سے ایک خاتون کو چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

70 برس کے بعد اس خطرے میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ چھاتی کے ایک تہائی سرطان 70 برس سے زیادہ عمر والی خواتین میں ہوتے ہیں۔

مجموعی طور پر برطانیہ میں رہنے والی کسی خاتون کو اپنی زندگی میں چھاتی کا سرطان ہونے کا 12 فیصد خطرہ ہوتا ہے۔ امریکہ میں بھی یہی صورتِ حال ہے۔ تاہم صرف لمبی عمر کی سرطان کی بڑھتی ہوئی شرح میں اضافے کا واحد سبب نہیں ہے۔

آرنی کہتی ہیں، ’نوجوان خواتین میں کئی وجوہات کے باعث سرطان کی شرح بڑھ رہی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ خواتین کا طرزِ زندگی بدل رہا ہے، وہ زیادہ موٹی ہو رہی ہیں اور زیادہ شراب نوشی کرتی ہیں۔ یہ سب چیزیں چھاتی سرطان کے ساتھ منسلک ہیں‘۔

اس کے علاوہ ایک اور وجہ بھی ہے۔ برطانیہ کی کینسر ریسرچ کے مطابق جو خواتین ماں بننے میں تاخیر کرتی ہیں ان کے لیے ہر سال چھاتی کے سرطان کے خطرے میں تین فیصد کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ البتہ جو مائیں بچوں کو دودھ پلاتی ہیں ان میں خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ فی 12 ماہ بچوں کو دودھ پلانے سے چھاتی کے سرطان کے خطرے میں چار فیصد کی کمی واقع ہو جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ زیادہ ترقی یافتہ ممالک میں چھاتی کے سرطان کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔

افریقی خواتین میں چھاتی کے سرطان کی شرح چار گنا کم ہے کیوں کہ وہ نسبتاً کم عمر میں ماں بنتی ہیں، ان کے زیادہ بچے ہوتے ہیں اور وہ بچوں کو زیادہ طویل عرصے تک دودھ پلاتی ہیں۔

دوسری جانب ترقی پذیر ممالک میں چھاتی کے سرطان سے بچنے کی شرح کم ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق شمالی امریکہ، سویڈن اور جاپان میں یہ شرح 80 فیصد سے زائد ہے، جبکہ درمیانی آمدن والے ملکوں میں یہ شرح 60 فیصد اور کم آمدن والے ملکوں میں 40 فیصد سے کم ہے۔

تاہم سرطان کی بڑھتی ہوئی شرح کے باوجود کتنی خواتین ہوں گی جو ایجنلینا جولی کی طرح اس قدر انتہائی اقدام کرگزریں گی کہ دونوں چھاتیوں کو قطع کروا دیں؟

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2010 اور 2011 میں برطانیہ میں ایسے 18 ہزار آپریشن کیے گئے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے آپریشن جولی کی طرح احتیاطی تدبیر کے طور پر کروائے گئے تھے۔

اسی بارے میں