آٹیزم کے مریضوں کے لیے روزگار کا اعلان

Image caption آٹویزم ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جس میں مبتلا افراد بیرونی دنیا سے ہم آہنگ ہونے کے بجائے اپنے آپ میں مگن رہتے ہیں

جرمنی کی سافٹ وئیر کمپنی سیپ کا کہنا ہے کہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آنے والے نئے ٹیلنٹ کو مدِنظر رکھتے ہوئے آٹیزم کا شکار سینکڑوں افراد کو روزگار مہیا کرے گی۔

آٹیزم ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جس میں مبتلا افراد بیرونی دنیا سے ہم آہنگ ہونے کے بجائے اپنے آپ میں مگن رہتے ہیں۔

دنیا کی ایک فیصد آبادی اس نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہے اور اس بیماری کا شکار بعض افراد بے انتہا ذہین ہیں۔

سیپ کا کہنا ہے کہ 2020 تک دنیا بھر میں اُس کے 65000 ملازمین کی افرادی قوت کا ایک فیصد آٹیزم کے شکار افراد پر مشتمل ہو گا۔

سیپ کی ایک اعلیٰ عہدادار کا کہنا ہے کہ کمپنی کو یقین ہے کہ ’تخلیق کہیں سے بھی آ سکتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ’ ایسے افراد جو مختلف سوچتے ہیں اور تخلیقی صلاحتیوں کے مالک ہبں وہی سیپس کو اکیسویں صدی کے چیلنجز کے لیے تیار کریں گے۔‘

بھارت اور بنگلہ دیش میں قائم سیپ کے دفاتر میں چھ ایسے افراد کو ملازمت دی گئی ہے جو آٹیزم میں مبتلا تھے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اِن افراد کی کوشیشوں کے نتیجے میں کمپنی کی پیداواری صلاحیت بڑھی ہے۔

سیپ نے ڈنمارک کی ایک سماجی تنظیم کے تعاون سے خصوصی افراد کے لیے روزگار کی مہم شروع کی ہے۔

اسی بارے میں