ٹوئٹر نے سکیورٹی مزید سخت کر دی

Image caption شامی الیکٹرانک آرمی نے کئی اخباری ویب سائٹوں کو ہیک کرنے کا دعویٰ کیا ہے

مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے کہا ہے کہ وہ حال ہی میں ہیکنگ کے بڑے واقعات کے بعد صارفین کے لیے لاگ ان کا دو مراحل پر مبنی اختیاری نظام شروع کر رہا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسا نیا نظام نافذ کرے گی جو اس بات کو یقینی بنائے گا کہ صرف اصل صارف ہی اپنا اکاؤنٹ استعمال کر سکے۔

حال میں فنانشل ٹائمز اور خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے اکاؤنٹوں کو حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اے پی کے ہیک شدہ اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ بھیجی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ صدر اوباما زخمی ہو گئے ہیں۔

بعض حملے سیاسی تنظیموں کی جانب سے کیے گئے، خاص طور پر شام کی الیکٹرانک آرمی کی طرف سے، جو صدر بشار الاسد کی حامی ہے۔ اس نے کئی اخباری اداروں کو ہیک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن میں اے پی بھی شامل ہے۔

ٹوئٹر کی پراڈکٹ سکیورٹی کے سربراہ جم اولیری نے کہا کہ نئے سکیورٹی نظام کے باوجود صارفین کو اپنے لیے مضبوط پاس ورڈ منتخب کرنا چاہیے: ’اس نئے نظام کے نافذالعمل ہونے کے بعد بھی یہ ضروری ہے کہ آپ اپنا اکاؤنٹ محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں اور ہماری بقیہ ہدایات پر عمل کریں۔‘

ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ نیا نظام صارفین کو دو مراحل پر مبنی لاگ ان کا اختیار دے گا جس میں ہر بار لاگ ان ہونے کے لیے تصدیقی کوڈ ڈالنا لازمی ہو گا۔

اولیری نے کہا کہ یہ سب بہت آسان ہو گا: ’آپ کو ایک تصدیق شدہ ای میل کے پتے کی ضرورت ہو گی اور ایک تصدیق شدہ فون نمبر۔ یہ دیکھنے کے بعد کہ آپ کا فون ٹوئٹر سے ایس ایم ایس موصول کر سکتا ہے، آپ لاگ ان ہونے کے لیے تیار ہوں گے۔‘

اکاؤنٹ ہولڈر کے موبائل فون پر ایک تصدیقی کوڈ بھیجا جائے گا، جسے وہ لاگ ان ہونے کے لیے استعمال کر سکے گا۔ وہ ادارے جہاں کئی لوگ ٹوئٹر اکاؤنٹ چلاتے ہیں، انھیں اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈنا پڑے گا جس میں وہ ایک موبائل فون سے میسج وصول کر سکیں۔

فروری میں ٹوئٹر پر ایک حملے میں ڈھائی لاکھ پاس ورڈ چوری ہو گئے تھے۔

ٹوئٹر نے گذشتہ ماہ بی بی سی سمیت کئی خبررساں اداروں کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی سکیورٹی کو مضبوط بنائیں۔ ایک حملے میں ہیکر بی بی سی کے موسمیاتی چینل تک پہنچ گئے تھے۔

ٹوئٹر کے اس اعلان کے بعد کم ڈاٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹوئٹر کے حفاظتی اقدامات سے اس کے ایک پیٹنٹ کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ کم ڈاٹ کام فائلیں شیئر کرنے کے لیے میگااپ لوڈ نامی متنازع ویب سائٹ کے بانی ہیں۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا: ’گوگل، ٹوئٹر، سٹی بینک، فیس بک، وغیرہ دو مرحلہ جاتی تصدیقی عمل پیش کرتے ہیں جو ان امریکی کمپنیوں کی جانب سے پیٹنٹ کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘

’میں نے کبھی ان کے خلاف مقدمہ دائر نہیں کیا۔ میں معاشرے کی بہتری کے لیے علم و خیالات کے پھیلاؤ میں یقین رکھتا ہوں۔ لیکن اب جو کچھ میرے ساتھ امریکہ نے کیا ہے، اس کے بعد ہو سکتا ہے میں ان کے خلاف نالش کر دوں۔‘

امریکی حکام کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ڈاٹ کام کو نیوزی لینڈ سے ملک بدر کر کے امریکہ لے جائیں تاکہ ان کے خلاف میگا اپ لوڈ کے ضمن میں مقدمہ چلایا جا سکے۔

اسی بارے میں